Brailvi Books

ضیائے صدقات
313 - 408
    ايک اور حديث شريف پڑھئے اور درسِ عبرت حاصل کيجئے:
عَنْ أَبِيْ رَافِعٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ:کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّی الْعَصْرَ ذَھَبَ إِلٰی بَنِيْ عَبْدِ الْأَشْھَلِ فَيتحَدَّثُ عِنْدَھُمْ حَتّٰی ينحَدِرَ لِلْمَغْرِبِ. قَالَ أَبُوْ رَافِعٍ: فَبَينمَا النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُسْرِعٌ إِلَی الْمَغْرِبِ مَرَرْنَا بِالْبَقِيع، فَقَالَ: ''أُفّاً لَّکَ أُفّاً لَّکَ''، فَکَبُرَ ذٰلِکَ فِيْ ذَرْعِيْ، فَاسْتَأْخَرْتُ وَظَنَنْتُ أَنَّہُ يريدنِيْ، فَقَالَ: ''مَا لَکَ اِمْشِ''، فَقُلْتُ: أَأَحْدَثْتُ حَدَثاً؟ قَالَ: ''وَمَا لَکَ''؟ قُلْتُ: أَفَّفْتَ بِيْ؟ قَالَ: ''لَا، وَلٰکِنْ ھٰذَا فُلَانٌ
حضرت سیدناابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ،رؤف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جب عصر کی نماز ادا فرمالیتے تو بنی عبدالاشھل کے پاس تشریف لے جاتے ان سے گفتگو فرماتے یہاں تک کہ نمازِ مغرب کے لئے لوٹ آتے ۔حضرت سیدناابو رافع رضی اللہ تعا لیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بار جب نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تیزی سے مغرب کے لئے لوٹ رہے تھے تو ہماراگزر بقیع (قبرستان) سے ہوا۔تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلمنے فرمایا: تم پر افسوس ہے، تم پر افسوس ہے ، یہ بات مجھ پر گراں گزری میں پیچھے ہوا اورسمجھا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم مجھے فرمارہے ہیں ۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیاہوا چلو؟ میں نے (اپنے جی میں) کہا شاید مجھ سے کچھ ہوگیا (جو بارگاہِ ناز میں ناگوار گزرا ہے) آپ نے فرمایا، کیا ہوا میں نے عرض کی! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلمنے مجھ پر افسوس کیا؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ
Flag Counter