''اپنے ماں باپ کے گھر کيوں نہ بيٹھا رہا پھر ديکھتا اُسے نذرانہ ملتا ہے يا نہيں'' اس کے تحت حکیم الامت فرماتے ہیں:يعنی يہ نذرانہ نہيں ہے بلکہ رشوت ہے کہ اس کے ذريعہ صاحب نصاب آئندہ اصل زکوٰۃ سے کچھ کم کرانے کی کوشش کريں گے، نیز جب اسے کام کی اُجرت پوری ہم ديتے ہيں تو يہ ہديہ کيا چيز ہے، فقہاء فرماتے ہيں کہ حکام کے نذرانے اور خاص دعوتيں رشوت ہيں، ہاں حاکم عام دعوت وليمہ وغيرہ کھا سکتا ہے، نیز جو نذرانے، ہديہ اور ڈالياں اس کے حاکم بننے کے بعد شروع ہوں وہ سب رشوتيں ہيں، ہاں جن لوگوں کے ساتھ اس کا پہلے ہی سے لين دين ہو اور اس کے معزول ہونے کے بعد بھی وہی لين دين رہے وہ رشوت نہيں، جيسے عزیزوں اور قديمی احباب سے نيوتے، بھاجی وغيرہ، ان مسائل کی اصل يہ حديث ہے۔
حکیم الامت فرماتے ہیں:جو عامل زکوٰۃ ميں چوری يا خيانت کرے يا زکوٰۃ دينے والوں سے رشوت وصول کرے، غرض کہ بالواسطہ يا بلاواسطہ جس طرح بھی خفيۃً يا علانيۃً کچھ لے لفظ''مِنْہُ'' ان سب کو شامل ہے ۔(مرقات) غرض کہ يہاں زکوٰۃ کی چوری ہی مراد نہيں کيونکہ ان صاحب نے کوئی چوری نہ کی تھی، خيال رہے کہ يہاں تو گردن پر اُٹھانے کا ذکر ہے قرآن شريف ميں پيٹھوں پر لادنے کاکہ ارشاد ہوا: