Brailvi Books

ضیائے صدقات
310 - 408
فَیقُوْلُ: ھٰذَا لَکُمْ، وَھٰذِہِ ہَدْیَۃٌ أُھْدِيت لِيْ، فَہَلَّا جَلَسَ فِيْ بَيت أَبِيہِ أَوْ بَیْتِ أُمِّہِ فَیَنْظُرُ أَیُہْدَی لَہُ أَمْ لَا ؟ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَا یَأْخُذُ أَحَدٌ مِنْہُ شَیْئًا إِلَّا جَاءَ بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَحْمِلُہُ عَلیٰ رَقَبَتِہِ إِنْ کَانَ بَعِیْرًا لَہُ رُغَاءٌ أَوْ بَقَرًا لَہُ خُوَارٌ أَوْ شَاۃً تَیْعَرُ ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی رَأَیْنَا عُفْرَتَیْ إِبْطَیْہِ ثُمَّ قَالَ اَللّٰہُمَّ ہَلْ بَلَّغْتُ اَللّٰہُمَّ ہَلْ بَلَّغْتُ''.۱؎
ہيں جن کا اللہ تعالیٰ نے ہميں والی بنايا تو ان ميں سے بعض آکر کہتے ہيں کہ يہ تمہارا ہے اور يہ مجھے ہديہ نذرانہ ديا گيا تو وہ اپنے ماں باپ کے گھر کيوں نہ بيٹھ رہا؟ پھر ديکھتا کہ اُسے نذرانہ ملتا ہے يا نہيں، اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ کوئی شخص اس میں سے کچھ نہ لے گا مگر قیامت کے دن اسے اپنی گردن پر اٹھائے لائے گا اگر اُونٹ ہے تو وہ بلبلاتا ہوگایا گائے ہے تو وہ چيختی ہوگی يا بکری کہ ممياتی ہوگی۔ پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اُٹھائے حتی کہ ہم نے حضور کی بغلوں کی سفيدی ديکھی پھر عرض کیا الٰہی!کیا ميں نے تبلیغ کردی اے مولیٰ کیا میں نے تبلیغ کردی۔

    ''یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے''اس کے تحت حکیم الامت فرماتے ہیں:یعنی ان کے پاس وصول کردہ زکوٰۃ سے زيادہ مال تھا جو زکوٰۃ دينے والوں نے انہيں بطور ہديہ علاوہ زکوٰۃ ديا تھا، يہ ان صحابی کی انتہائی ديانتداری ہے کہ اس ہديہ کو گھر نہ رکھ گئے سب کچھ بارگاہ شريف ميں پیش کرديا اور اصل واقعہ بيان کرديا۔
مدینــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (صحيح البخاري،کتاب الھبۃ وفضلھا والتحریض عليھا،باب من لم یقبل الھدیۃ لعلۃ،الحديث: ۲۵۹۷،ج۲،ص۱۵۴۔۱۵۵)

(صحيح مسلم،کتاب الإمارۃ،باب تحريم ھدايا العمال، الحديث:۱۸۳۲،ص۷۳۴۔۷۳۵)

(سنن أبي داود،کتاب الخراج والإمارۃ والفيئ،باب في ہدايا العمال،الحديث:۲۹۴۶،ج۳،ص۲۳۹)

(مشکاۃ المصابيح،کتاب الزکاۃ،الفصل الأول،الحديث:۱۷۷۹،ج۱،ص۳۳۸)
Flag Counter