| ضیائے صدقات |
اس حدیث کی شرح میں حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:يعنی خيانت چھوٹی ہو يا بڑی قيامت ميں سزا اور رسوائی کا باعث ہے خصوصاً جو خيانت زکوٰۃ وغيرہ ميں کی جائے کيونکہ يہ عبادت ميں خيانت ہے اور اس ميں اللہ کا حق مارنا ہے اور فقيروں کو اُن کے حق سے محروم کرنا، رب تعالیٰ فرماتا ہے:
( وَمَنۡ یَّغْلُلْ یَاۡتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ۚ )
ترجمہ: اور جو چھپا رکھے وہ قيامت کے دن اپنی چھپائی چيز لے کر آئے گا (کنزالايمان [ آل عمران:۳/۱۶۱]) ۔۱؎
ايک اور حديث شريف :عَنْ أَبِيْ حُمَيد السَّاعِدِيِّ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: اِسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلاً مِنَ الْأَزْدِ ےُقَالُ لَہُ اِبْنُ اللُّتْبِیۃِ عَلَی الصَّدَقَۃِ، فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ: ھٰذَا لَکُمْ وَھٰذَا أُھْدِيَ لِيْ. فَخَطَبَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللہَ وَأَثْنٰی عَلَيہِ، ثُمَّ قَالَ: ''أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّيْ أَسْتَعْمِلُ رِجَالًا مِنْکُمْ عَلَی أُمُوْرٍ مِمَّا وَلَّانِيَ اللہُ فَياتِيْ أَحَدُہُمْ
حضرت ابو حميد ساعدی سے مروی ہے، فرماتے ہيں: شہنشاہ مدینہ،قرارقلب و سینہ، صاحب معطر پسینہ، باعث نزول سکینہ، فیض گنجینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے قبيلہ ازد کے ايک شخص کو جنہيں ابن لتبيہ کہا جاتا تھا صدقہ پر عامل بنايا، جب وہ واپس آئے تو بولے: يہ تمہارا ہے اور يہ مجھے ہدےۃً ديا گيا، تب نبی کريم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اللہ کی حمد وثناء کی پھر فرمايا: حمد وثناء کے بعد سنو! کہ ہم تم ميں سے بعض کو ان چيزوں پر عامل بناتے
مدینـــــــــــــــــــــہ ۱؎ (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابیح،ج ۳،ص۱۵)