| ضیائے صدقات |
بلکہ بعض اوقات صدقہ کا ثواب مُسکرا کربھی کمایا جاسکتا ہے۔ جی ہاں! اگر بنیّتِ رِضائے الٰہی عزوجل کسی اسلامی بھائی کے سامنے مسکرائے تو یہ بھی صدقہ ہے، بلکہ راستہ سے کانٹا، ہڈی پتھر وغیر کا ہٹادینا بھی صدقہ ہے۔ چنانچہ،
عَنْ أَبِيْ ذَ رٍّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ''تَبَسُّمُکَ فِيْ وَجْہِ أَخِيکَ لَکَ صَدَقَۃٌ، وَأَمْرُکَ بِالْمَعْرُوْفِ وَنَھْيکَ عَنِ الْمُنْکَرِ صَدَقَۃٌ، وَإِرْشَادُکَ الرَّجُلَ فِيْ أَرْضِ الضَّلَالِ لَکَ صَدَقَۃٌ، وَبَصَرُکَ لِلرَّجُلِ الرَّدِيءِ الْبَصَرِ لَکَ صَدَقَۃٌ، وَإِمَاطَتُکَ الْحَجَرَ وَالشَّوْکَۃَ وَالْعَظْمَ عَنِ الطَّرِيقِ لَکَ صَدَقَۃٌ، وَإِفْرَاغُکَ مِنْ دَلْوِکَ فِيْ دَلْوِ أَخِيکَ لَکَ صَدَقَۃٌ''.۱؎
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں، نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بَحرو بَر صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، تمہارا اپنے بھائی کے لئے مسکرانا بھی صدقہ ہے، نیکی کی دعوت دينا بھی صدقہ ہے، بُرائی سے روکنا بھی صدقہ ہے، بھٹکے ہوئے کی راہنمائی کرنا بھی صدقہ ہے، کمزور نگاہ والے کی مدد کرنا بھی صدقہ ہے، راستے سے پتھر، کانٹا اور ہڈی کا ہٹادينا بھی صدقہ ہے، اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے ڈول ميں پانی ڈال دينا بھی صدقہ ہے۔
الغرض، حُسنِ نیت سے کئے جانے والے تمام اعمال پر اجر وثواب ملتا ہے۔ ہاں مگر فقیر، اگر اپنی تنگ دستی کو چھُپائے اور لوگوں کے سامنے دست درازی اور مانگنے سے باز رہے تو اُس کے لئے فراوانی رزق کی بِشارت ہے، چنانچہ حدیث شریف میں ہے:مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (سنن الترمذي، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء في صنائع المعروف، الحديث: ۱۹۵۶،ج۳،ص۹۰)