Brailvi Books

ضیائے صدقات
308 - 408
    ايک اور حديث شريف:
عَنْ عَدِيِّ بْنِ عُمَيرۃَ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: ''مَنِ اسْتَعْمَلْنَاہُ مِنْکُمْ عَلٰی عَمَلٍ فَکَتَمَنَا مِخْیَطاً فَمَا فَوْقَہُ کَانَ غُلُوْلاً ياتِيْ بِہِ يومَ الْقِيامَۃِ''. فَقَامَ إِلَيہِ رَجُلٌ  أَسْوَدُ مِنَ الْأَنْصَارِ کَأَنِّيْ أَنْظُرُ إِلَيہِ، فَقَالَ: يا رَسُوْلَ اللہِ اِقْبَلْ عَنِّيْ عَمَلَکَ قَالَ:''وَمَا لَکَ''؟ قَالَ: سَمِعْتُکَ تَقُوْلُ کَذَا وَکَذَا. قَالَ: ''وَأَنَا أَقُوْلُ الْآنَ: مَنِ اسْتَعْمَلْنَاہُ مِنْکُمْ عَلٰی عَمَلٍ فَلْيجيئُ بِقَلِيلہِ وَکَثِيرہِ، فَمَا أُوْتِيَ مِنْہُ أَخَذَ وَمَا نُھِيَ عَنْہُ انْتَھٰی''.۱؎
حضرت عدی بن عميرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہيں: آقائے مظلوم، سرورمعصوم، حسن اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، محبوب ر ب اکبر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: ہم تم ميں سے جسے کسی کام پر عامل بنائيں پھر وہ ہم سے سُوئی يا اس سے بھی کمتر چیز چھپالے تو يہ خيانت ہے، جسے قيامت کے دن لائیگا۔تو آپ کی بارگاہ ميں ايک حبشی انصاری شخص کھڑے ہوئے راوی کہتے ہیں:گويا کہ ميں اُن کی جانب ديکھ رہا ہوں اورعرض کرنے لگے: يارسول اللہ!آپ مجھ سے اپنا کام واپس قبول فرما ليجئے ، نبی مکرم،نورمجسم، رسول اکرم، شہنشا ہ بنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: کيا ہوا؟ عرض کی: ميں نے آپ کواس اس طرح فرماتے سُنا۔آپ نے فرمايا: ميں اب بھی یہی کہتا ہوں کہ جسے ہم کسی کام پرعامل بنائيں تو وہ قلیل وکثیر ہماری بارگاہ ميں لے کر حاضر ہو اورپھر اس میں سے جو اسے ديا جائے وہ لے اور جس سے منع کيا جائے اس سے باز رہے۔
مدینـــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (صحيح مسلم،کتاب الزکاۃ،باب تحريم ھدايا العمّال،الحديث:۱۸۳۳،ص۷۳۵)

(مشکاۃ المصابيح،کتاب الزکاۃ، الفصل الأول،الحديث:۱۷۸۰،ج۱،ص۳۳۸)
Flag Counter