Brailvi Books

ضیائے صدقات
307 - 408
    حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''يعنی اپنی تنخواہ کے علاوہ جو کچھ چھپا کر لے گا وہ چوری و خيانت ہوگا''۔۱؎

    ایک اور حدیث شریف:
عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَبَعَثَہُ عَلَی الصَّدَقَۃِ فَقَالَ: ''يا أَبَا الوَلِيد اِتَّقِ اللہَ لَا تَأْتِيْ يومَ الْقِيامَۃِ بِبَعِير تَحْمِلُہُ لَہُ رُغَاءٌ أَوْ بَقَرَۃٍ لَھَا خُوَارٌ أَوْ شَاۃٍ لَھَا ثُغَائٌ''. قَالَ: يا رَسُوْلَ اللہِ إِنَّ ذٰلِکَ لَکَذٰلِکَ؟ قَالَ: ''إِيْ وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيدہِ''. قَالَ: فَوَالَّذِيْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لَا أَعْمَلُ لَکَ عَلٰی شَيْءٍ أَبَداً.۲؎
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہسرکاروالا تبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیع روزشمار، دو عالم کے مالک و مختار، حبیب پروردگار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے انہيں صدقات کی وصوليابی کے لئے بھيجا تو فرمايا: اے ابو وليد! اللہ سے ڈر، قيامت کے دن يوں نہ آنا کہ تم بلبلاتا ہوا اونٹ يا چيختی ہوئی گائے يا ممياتی ہوئی بکری اٹھائے ہوئے ہو،انہوں نے عرض کیا: يارسول اللہ! يہ معاملہ ایساہی ہے؟ فرمايا: ہاں! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت ميں ميری جان ہے ، عرض کی: توقسم ہے اس ذاتِ پاک کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمايا ميں کبھی کسی چیخ کا عامل نہ بنوں گا۔
مدینــــــــــہ

۱؎    (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابیح،ج ۵،ص۳۸۸)

۲؎    (السنن الکبری للبيھقي،کتاب الزکاۃ، باب غلول الصدقۃ،الحديث:۷۶۶۳،ج۴،ص۲۶۷)
Flag Counter