Brailvi Books

ضیائے صدقات
303 - 408
    اپنا صدقہ واپس نہ لو اگرچہ تمہيں ايک درہم ميں دے دے'' اس کے تحت حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:اس جملہ کی بناپر بعض علماء فرماتے ہيں کہ اپنے دئیے ہوئے صدقہ کا خريدنا حرام ہے، مگر حق يہ ہے کہ مکروہ تنزيہی ہے، اور کراہت کی وجہ بھی یہ ہے کہ اس موقعہ پر فقیر صدقہ دینے والے کی گذشتہ مہربانی کا خیال کرتے ہوئے اسے سستا دے دے گا اور یہ قیمت کی کمی صدقہ کی واپسی ہے، مثلاً اگر سو روپيہ کا مال اُس نے اسّی ميں دے ديا تو گويا صدقہ دينے والے نے بيس روپيہ صدقہ کرکے واپس لے لئے۔

    ''اپنے صدقہ میں رجوع کرنے والااس کتے کی طرح ہے جو قے کرکے چاٹ لے''اس کے تحت حکیم الامت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:اس تشبيہ سے معلوم ہورہا ہے کہ ممانعت تنزيہی ہے کيونکہ کتے کے اپنی قے کو چاٹ لينے سے اس کا پيٹ تو بھر ہی جائے گا مگر يہ کام گھناؤنا ہے ايسے ہی اپنے صدقہ کو خريد لينے سے ملکيت تو حاصل ہو ہی جائے گی اگرچہ کام بہت بُرا ہے يہی تشبيہ ہبہ واپس لينے والے پر بھی دی گئی ہے حالانکہ ہبہ کی واپسی بالاتفاق جائز ہے اگرچہ مکروہ ہے۔۱؎
مدینــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابیح،ج۳،ص۱۳۱)
Flag Counter