Brailvi Books

ضیائے صدقات
302 - 408
صدقہ دے کر رجوع کرنا کيسا ہے؟
    صدقہ دے کر واپس لينا نہايت ہی قبیح و ناپسنديدہ ہے ، حديث شريف ميں ايسا کرنے والے کواس کتے سے تشبيہ دی گئی جو قے کرکے چاٹ لے، چنانچہ:
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: حَمَلْتُ عَلٰی فَرَسٍ فِيْ سَبِيل اللہِ فَأَضَاعَہُ الَّذِيْ کَانَ عِنْدَہُ، فَأَرَدْتُّ أَنْ أَشْتَرِيہ، وَظَنَنْتُ أَنَّہُ يبِيعہُ بِرُخْصٍ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:''لَا تَشْتَرِہِ وَلَا تَعُدْ فِيْ صَدَقَتِکَ وَإِنْ أَعْطَاکَہُ بِدِرْھَمٍ، فَإِنَّ الْعَاءِدَ فِيْ صَدَقَتِہِ کَالْکَلْبِ الَّذِيْ يعوْدُ فِيْ قَیءِہِ''.۱؎
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہيں: ميں نے کسی کو اللہ کی راہ ميں گھوڑا ديا، جس کے پاس وہ گھوڑا تھا اس نے اسے برباد کرديا، ميں نے چاہا کہ گھوڑا خريدلوں ميرا خيال تھا کہ سستا بيچ دے گا، ميں نے سید المبلغین، رحمۃللعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے پوچھا آپ نے فرمايا: اسے نہ خريدو اور اپنا صدقہ واپس نہ لو اگرچہ تمہيں ايک درہم ميں دے دے کيونکہ اپنے صدقے ميں رجوع کرنے والا اس کتے کی طرح ہوتا ہے جو قے کرکے چاٹ لے۔
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (مشکاۃ المصابيح،کتاب الزکاۃ،باب من لا يعود في الصدقۃ،الحديث:۱۹۵۴،ج۱،ص۳۷۰)
Flag Counter