Brailvi Books

ضیائے صدقات
301 - 408
خیال شرع مطہر کے خلاف ہے ،اور اس پر ہرگز اس کے لیے ثواب نہیں اسی کی بعض صورتوں میں فقہاء نے حکم تکفیر کیا ،اور اگر یوں نہ تھا بلکہ اس مال کو خبیث و ناپاک ہی جانا اور اپنے گناہ پر نادم ہو کر تائب ہوا اور بحکم شرع اپنے تصرف میں لانا ناجائز سمجھا اور اپنے نفس کو اس میں تصرف سے روکا اور ازاں جا کہ اس کے ارباب معلوم نہ رہے بجاآوری حکم شرع کے لیے اسے تصدق کیا اور اسی بجا آوری فرمان پر امیدوار ثواب ہوا تو بے شک اس میں اصلاً حرج نہیں بلکہ اسی کا اسے شرعا حکم تھا اور اس تصدق پر اگرچہ ثواب صدقہ نہیں مگر اس امتثال حکم کا ثواب بے شک ہے بلکہ یہ فعل اس کی توبہ کا تتمہ ہے اور توبہ قطعاً موجب رضائے الٰہی وثواب اخروی ہے۔۱؎
مدینــــــــــــــہ

۱؎    (فتاویٰ رضویہ،کتاب الغصب،ج۱۹،ص۶۵۸)
Flag Counter