| ضیائے صدقات |
عَنْ أَبِيْ ھُرَيرۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم : ''مَنْ جَمَعَ مَالاً حَرَاماً، ثُمَّ تَصَدَّقَ بِہِ لَمْ يکُنْ لَہُ فِيہِ أَجْرٌ، وَکَانَ إِصْرُہُ عَلَيہِ''.۱؎
حضرت ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں: حضورپاک، صاحب لولاک، سیاح افلاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: جو حرام مال جمع کرے پھر اس سے صدقہ دے تو اس ميں اس کے لئے کوئی اجر نہيں اور اس کا وبال اسی پر ہوگا۔
مال حرام سے صدقہ کرنے کے بارے میں اعلیٰ حضرت امام اہل سنت مولانا شاہ احمدرضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاویٰ رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں:
فتاویٰ ظہیریہ میں ہے :رجل دفع الی فقیر من المال الحرام شیأا یرجوا بہ الثواب یکفر
( کسی شخص نے فقیر کو حرام مال میں سے کچھ دیا اور اس پر ثواب کی امید رکھی تو کافر ہو جائے گا۔)
اقول وباللہ التوفیق،(میں اللہ عزوجل کی توفیق سے کہتا ہوں) تحقیق مقام یہ ہے کہ اگر اس نے اس مالِ حرام کو اپنی ملک خاص جان کر بطور تبرع تصدق کیاجیسے مسلمان اپنے پاکیزہ مال کو بہ نیت نفل وتطوع تقربا الی اللہ صدقہ کرتا اور اس پر اپنے رب کریم سے امید ِثواب رکھتا ہے کہ بے ایجابِ شرع اس نے اپنی خوشی سے اپنے پاک مال کا حصہ اپنے رب کی رضا کے لیے صرف کیا، جب تو یہ تصرف حکمِ شرع سے جدااور یہمدینــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (صحيح ابن حبان،کتاب الزکاۃ،ذکر البیان بأن المال...الخ، الحديث:۳۳۶۷،ج۸،ص۱۵۳) (السنن الکبری للبيھقي،کتاب الزکاۃ، باب الدليل علی أن من أدی فرض اللہ في الزکاۃ فليس عليہ أکثر منہ إلا أن...إلخ، الحديث:۷۲۴۰،ج۴،ص۱۴۱)