Brailvi Books

ضیائے صدقات
299 - 408
ميں پہنچے حرام ہی رہے گا کيونکہ پہلا شخص ہی اس کا مالک نہ بنا اور دوسری قسم کا حرام دوسرے کی ملک ميں پہنچ کر اس کے لئے حلال ہوگا، وہ جو فقہاء فرماتے ہيں کہ جس کے پاس حرام يا  مشکوک پيسہ ہو وہ دوسرے سے قرض لے کر حج يا  صدقہ کرے اور اپنے مال سے وہ قرض ادا کردے اس سے مراد يہی آخری حرام ہے کيونکہ مِلک بدلنے سے حکم بدل جاتا ہے۔حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہيں :
''لَھَا صَدَقَۃٌ وَلَنَا ھَدِيۃٌ''۔
    حکیم الامت مزید فرماتے ہیں:داہنے ہاتھ ميں قبول کرنے سے مراد راضی ہوکر قبول فرماتا ہے اور مطلب يہ ہے کہ مال و نيت خير کا صدقہ رضائے الٰہی کا باعث ہے اور وہ صدقہ کے وقت سے لے کر قيا مت تک بھاری ہوتا رہے گا حتی کہ ميزان ميں سارے گناہوں پر غالب آجائے گا جيسے اچھی زمين ميں بوئی ہوئی ادرک، آلو وغيرہ، اس حديث کی تائید اس آيت سے ہے
(یَمْحَقُ اللہُ الرِّبٰوا وَیُرْبِی الصَّدَقٰتِ ؕ )''
 1؎ ترجمہ: اللہ ہلاک کرتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے خيرات کو (کنزالايمان))۔

    حرام مال سے چاہے کتنا ہی صدقہ خيرات کرلے بے سود ہے اور بجائے موجبِ ثواب کے باعثِ وبال ہے، چنانچہ حديث شريف ميں ہے:
مدینـــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابيح،ج ۳،ص۹۲۔۹۳)
([البقرۃ:۲/۲۷۶]
Flag Counter