Brailvi Books

ضیائے صدقات
298 - 408
    ''کھجور کے برابر صدقہ کرے'' اس کے متعلق حکیم الامت مفتی احمد يا ر خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ فرماتے ہيں: يعنی معمولی سے معمولی چيز اللہ کی راہ ميں دے، عرب شريف ميں کھجور معمولی چيز ہے، پھر اس کی قاش تو بہت ہی معمولی ہوئی۔

    ''اللہ تعالیٰ صرف حلال ہی قبول فرماتا ہے''اس کی شرح میں حکیم الامت فرماتے ہیں:يہ بہت ہی اہم قانون ہے کہ خيرات حلال کمائی سے کی جائے تب ہی قبول ہوگی حتی کہ حج بھی طيب و پاک کمائی سے کرے يہاں دو قاعدے يا د رکھنا چاہيں: ايک  يہ کہ مالِ مخلوط سے اُجرت، صدقہ، دعوت وغيرہ لينا  جائز ہے۔ ديکھو موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے ہاں اور حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ابو طالب کے ہاں پرورش پائی جن کا مال مخلوط تھا اگر اس مال پر حرام کے احکام جاری ہوتے تو رب تعالیٰ اپنے ان محبوبوں کو وہاں پرورش نہ کراتا، دوسرا يہ کہ مال حرام دو قسم کا ہے ايک  وہ جو انسان کی ملکيت ميں آتا ہی نہيں جيسے زنا کی اُجرت، سُود کا پيسہ اور بيع باطل کے معاوضے، سُور، شراب وغيرہ کی قیمتيں۔ دوسرا وہ کہ مالک کی ملک ميں آجاتا ہے اگرچہ مالک اس کاروبار پر گنہگار ہوتا ہے جيسے بيع بالشرط وغيرہ تمام فاسد بيعوں کی قیمت اور ناجائز پیشوں (گانے بجانے، داڑھی مونڈنے وغيرہ) کی اجرت۔ پہلی قسم کا حرام کسی کے قبضہ
مدینــــــــــــــــــــہ

=    (صحيح البخاري،کتاب الزکاۃ،باب الصدقۃ من کسب طيب، الحديث:۱۴۱۰، ج۱، ص۴۷۶)

(صحيح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب قبول الصدقۃ من الکسب الطيب وتربيتھا،الحديث:۱۰۱۴، ص۳۶۴)

(سنن الترمذي،کتاب الزکاۃ، باب ما جاء في فضل الصدقۃ،الحديث:۶۶۱،ج۱،ص۴۷۶)

(سنن ابن ماجہ،کتاب الزکاۃ، باب فضل الصدقۃ،الحديث:۱۸۴۲،ج۲،ص۴۱۱)

(سنن النسائي،کتاب الزکاۃ، باب الصدقۃ من غلول،الحديث:۲۵۲۴،ج۳،الجزئ۵،ص۶۱)

(مشکاۃ المصابيح، کتاب الزکاۃ، باب فضل الصدقۃ،الحديث:۱۸۸۸،ج۱،ص۳۵۹)
Flag Counter