| ضیائے صدقات |
يعنی (حديث شريف ميں جو ممانعت فرمائی گئی وہ) شوہر کے مال سے ہے، ورنہ عورت کو اپنے مال سے صدقہ کرنے کے لئے جمہور علماء کے نزديک ، کسی کی اجازت درکار نہيں۔
ايک اور حديث شريف:عَنْ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللہُ عَنْھَا قَالَتْ: قُلْتُ: يا رَسُوْلَ اللہِ، مَا لِيْ مَالٌ إِلَّا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ الزُّبَير أَفَأَتَصَدَّقُ؟ قَالَ: ''تَصَدَّقِيْ، وَلَا تُوْعِيْ فَيوعٰی عَلَيک ''.۱؎
حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہيں: ميں نے عرض کی: يا رسول اللہ! ميرے پاس (ميرے شوہر) زبير کے دئيے ہوئے مال کے سواء کچھ نہيں تو کيا ميں صدقہ کروں؟ فرمايا :صدقہ کر اورروک مت کہ تجھ سے روکا جائے۔
وَفِيْ رِوَایۃٍ: أَنَّھَا جَائَتِ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم فَقَالَتْ: يا نَبِيَّ اللہِ! لَيس لِيْ شَيْءٌ إِلَّا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ الزُّبَير، فَھَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ أَرْضَخَ مِمَّا یدخِلُ عَلَيَّ؟ قَالَ: ''اِرْضَخِيْ مَا اسْتَطَعْتِ، وَلَا تُوْعِيْ فَيوعِيَ اللہُ عَلَيک ''.۲؎
اور ايک روايت ميں ہے کہ آپ نبی مکرم، نورمجسم، رسول اکرم، شہنشا ہ بنی آدمصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ ميں حاضر ہوئيں، عرض کی: يا نبی اللہ! زبير کے دئيے کے سوا ميرے پاس کچھ نہيں اگر ميں زبير کے دئيے ہوئے سے تھوڑا صدقہ کروں تو مجھ پر گناہ تو نہيں؟ فرمايا : بقدرِ استطاعت خرچ کر اور روک مت کہ اللہ عزوجل تجھ سے (اپنا رزق) روکے۔
مدینـــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (صحيح البخاري،کتاب الھبۃ وفضلھا والتحریض علیھا، باب ھبۃالمرأۃ لغير زوجہا وعتقھا ...إلخ، الحديث:۲۵۹۰،ج۲،ص۱۵۳) ۲؎ (صحيح مسلم،کتاب الزکاۃ،باب الحث علی الإنفاق وکراھۃ الإحصاء،الحديث:۱۰۲۹، ص۳۶۹) (السنن الکبری للنسائي،کتاب الزکاۃ، الإحصاء في الصدقۃ،الحديث:۲۳۳۲،ج۲،ص۳۸)=