Brailvi Books

ضیائے صدقات
295 - 408
بِإِذْنِہِ. زاد رزين العبدريّ في جامعہ:فَإِنْ أَذِنَ لَھَا فَالْأَجْرُ بَينھُمَا، فَإِنْ فَعَلَتْ بِغَير إِذْنِہِ فَالْأَجْرُ لَہُ، وَالإْثْمُ عَلَيھَا.۱؎
ميں ان الفاظ کا اضافہ کيا  کہ اگرعورت شوہر کی اجازت سے صدقہ کرے تو دونوں کو ثواب ملے گا اور اگر شوہر کی اجازت کے بغير صدقہ کرے تو شوہر کو اس کا ثواب ملے گا اور عورت گنہگارہوگی۔

    ايک  اور حديث شريف:
عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللہُ عَنْھُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''لَا يجُوْزُ لِامْرَأَۃٍ عَطِيۃٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِھَا''.۲؎
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ آقائے مظلوم،سرور معصوم حسن اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، محبوب رب اکبر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا : عورت کا اپنے شوہر کی اجازت کے بغير عطيہ دينا  جائز نہيں

    امام جلال الدين سيوطی شافعی متوفی ۹۱۱ھ ؁ اس حديث کی شرح ميں فرماتے ہيں:
أي من مال الزوج وإلا فالعطيۃ من مالھا لا يحتاج إلی إذنٍ عند الجمہور۳؎
مدینــــــــــــــــــہ

۱؎    (مصنف عبد الرزاق،کتاب الزکاۃ،باب صدقۃ المرأۃ بغير إذن زوجہا،الحديث:۷۳۰۳،ج۴، ص۱۱۴)

(سنن أبي داود،کتاب الزکاۃ،باب المرأۃ تتصدق من بهت زوجہا،الحديث:۱۶۸۸،ج۲،ص۲۱۷)

(السنن الکبری للبيھقي،کتاب الزکاۃ،باب من حمل ہذہ الأخبارعلی أنہا تعطيہ من الطعام الذي أعطاہا ...إلخ، الحديث:۷۸۵۳،ج۴،ص۳۲۴)

(الترغيب والترھيب،کتاب الصدقات،ترغيب المرأۃ في الصدقۃ من مال زوجھا...إلخ، الحديث:۳،ج۲،ص۳۲)

۲؎    (سنن النسائي،کتاب الزکاۃ،باب عطيۃ المرأۃ بغير إذن زوجہا،الحديث:۲۵۳۹،ج۳،الجزئ۵،ص۷۰)

۳؎    (حاشيۃ السيوطي علی سنن النسائي،کتاب الزکاۃ،باب عطيۃ المرأۃ بغير إذن زوجہا،الحديث: ۲۵۳۹،ج۳، الجزئ۵،ص۷۰ )
Flag Counter