Brailvi Books

ضیائے صدقات
294 - 408
    مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں: اگرچہ حديث پاک ميں کھانے کی خيرات کا ذکر ہے مگر اس ميں تمام وہ معمولی چيزيں داخل ہيں جن کے خيرات کرنے کی خاوند کی طرف سے عادۃً اجازت ہوتی ہے جيسے پھٹا پرانا کپڑا ٹوٹا جوتا وغيرہ اور کھانے ميں بھی عام کھانا روٹی سالن داخل ہے جس کی خيرات کرنے سے خاوند ناراض نہيں ہوتا، اگر خاوند نے کوئی خاص حلوہ يا  معجون اپنے گھر کے خرچ کے لئے بہت روپيہ خرچ کرکے تيا ر کی ہے تو اس ميں سے خيرات کی عورت کو اجازت نہيں مرقات نے فرمايا  يہاں خرچ کرنے ميں بچوں پر خرچ کرنا مہمانوں کی خاطر تواضع پر خرچ بھکاری فقير پر خرچ سب ہی شامل ہے مگر شرط يہ ہی ہے کہ مال برباد کرنے کی نيت نہ ہو بلکہ حصول ثواب کا ارادہ ہو اور اتنا ہی خرچ کرے جتنے خرچ کردينے کی عادت ہوتی ہے۔۱؎

    ايک  اور روايت:
عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ أَبَا ھُرَيرۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَۃِ ھَلْ تَتَصَدَّقُ مِنْ بَيتِ زَوْجِھَا؟ قَالَ: لَا إِلَّا مِنْ قُوْتِھَا، وَالْأَجْرُ بَينھُمَا، وَلَا يحلُّ لَھَا أَنْ تَتَصَدَّقَ مِنْ مَالِ زَوْجِھَا إِلَّا
حضرت ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عورت کے متعلق پوچھا گيا  کہ کيا  وہ اپنے شوہر کے گھر میں سے صدقہ کرسکتی ہے؟ فرمايا : نہيں سوائے اپنی غذا کے اوراس کا اجر دونوں کو ملے گا عورت کے لئے حلال نہيں کہ شوہر کی اجازت کے بغير اس کے مال سے صدقہ دے اور رزين عبدری نے اپنی جامع
مدینـــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابيح،ج۳،ص۱۲۷)
Flag Counter