مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں: اگرچہ حديث پاک ميں کھانے کی خيرات کا ذکر ہے مگر اس ميں تمام وہ معمولی چيزيں داخل ہيں جن کے خيرات کرنے کی خاوند کی طرف سے عادۃً اجازت ہوتی ہے جيسے پھٹا پرانا کپڑا ٹوٹا جوتا وغيرہ اور کھانے ميں بھی عام کھانا روٹی سالن داخل ہے جس کی خيرات کرنے سے خاوند ناراض نہيں ہوتا، اگر خاوند نے کوئی خاص حلوہ يا معجون اپنے گھر کے خرچ کے لئے بہت روپيہ خرچ کرکے تيا ر کی ہے تو اس ميں سے خيرات کی عورت کو اجازت نہيں مرقات نے فرمايا يہاں خرچ کرنے ميں بچوں پر خرچ کرنا مہمانوں کی خاطر تواضع پر خرچ بھکاری فقير پر خرچ سب ہی شامل ہے مگر شرط يہ ہی ہے کہ مال برباد کرنے کی نيت نہ ہو بلکہ حصول ثواب کا ارادہ ہو اور اتنا ہی خرچ کرے جتنے خرچ کردينے کی عادت ہوتی ہے۔۱؎
ايک اور روايت: