| ضیائے صدقات |
عورت خاوند کی وہ ہی چیز صدقہ کرسکتی ہے جسے صدقہ کرنے کی شوہر کی جانب سے عادۃً اجازت ہوتی ہے، اوراگر معلوم ہو کہ فلاں چیز صدقہ کرنے سے شوہر ناراض ہوگا يا کوئی خاص شے جو مرد نے اپنے لئے رکھی ہوایسی چیزوں کا صدقہ کرنا عورت کے لئے جائز نہيں۔
عورت اگر نیک نیتی اور شوہر کی رضا مندی سے صدقہ کرے تو اس عورت، اس کیشوہر اور جس خادم کے ذريعہ صدقہ دے، سب کے لئے اجر ہے، چنانچہ:عَنْ عَاءِشَۃَ رَضِيَ اللہُ عَنْھَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:''إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَۃُ مِنْ طَعَامِ بَيتھَا غَير مُفْسِدَۃٍ کَانَ لَھَا أَجْرُھَا بِمَا أَنْفَقَتْ، وَلِزَوْجِھَا أَجْرُہُ بِمَا اکْتَسَبَ، وَلِلْخَادِمِ مِثْلُ ذٰلِکَ، لَا ينقُصُ بَعْضُھُمْ مِنْ أَجْرِ بَعْضٍ شَيا اً''.۱؎
سیدہ عائشہ صديقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے، فرماتی ہيں: سرکاروالا تبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیع روزشمار، دو عالم کے مالک و مختار، حبیب پروردگار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا : جب عورت اپنے گھر کے کھانے سے کچھ خيرات کرے بشرطيکہ بربادی کی نيت نہ ہو تو اسے خيرات کرنے کا ثواب ہوگا اور اس کے خاوند کو کمانے کا ثواب اور خادم کو بھی اس کے برابر، جن ميں کوئی دوسرے کے ثواب سے کچھ کم نہ کریگا۔
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (صحيح البخاري،کتاب الزکاۃ،باب أجر الخادم إذا تصدق بأمرصاحبہ غير مفسدۃ،الحديث: ۱۴۳۷،ج۱،ص۳۵۲) (صحيح مسلم،کتاب الزکاۃ، باب أجر الخازن الأمين والمرأۃ إذا تصدقت من بيت زوجہا غير مفسدۃ...إلخ، الحديث:۱۰۲۳،ص۳۶۷) (مشکاۃ المصابيح،کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ المرأۃ من مال الزوج،الحديث:۱۹۴۷،ج۱،ص۳۶۹)