Brailvi Books

ضیائے صدقات
291 - 408
عَنْ أَبِي الْيسْرِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: أَشْھَدُ عَلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَسَمِعْتُہُ يقُوْلُ: ''إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ يسْتَظِلُّ فِيْ ظِلِّ اللہِ يومَ الْقِيا مَۃِ لَرَجُلٌ أَنْظَرَ مُعْسِراً حَتّٰی يجِدَ شَيا اً أَوْ تَصَدَّقَ عَلَيہ بِمَا يطْلُبُہُ يقُوْلُ:مَالِيْ عَلَيک  صَدَقَۃٌ ابْتِغَاءَ وَجْہِ اللہِ، وَيخَرِّقُ صَحِيفتَہُ''۱؎
حضرت ابو يسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں: ميں گواہی ديتا ہوں کہ ميں نے اللہ عزوجل کے محبوب، دانائے غیوب، منزہ عن العیوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سُنا کہ بروزِ قيا مت لوگوں میں سب سے پہلے اللہ کے (عرش کے)سائے ميں وہ شخص پناہ لے گا جو کسی تنگدست مقروض کو مہلت دے يہاں تک کہ وہ کوئی چيز پائے (جس سے اپنا قرض ادا کرسکے)يا  اپنا مطالبہ يہ کہتے ہوئے صدقہ کردے کہ يہ اللہ کی رضا کی خاطر تجھ پر صدقہ ہے اور قرض کی دستا ویز کو پھاڑ دے ۔

    تنگدست پر آسانی کرنے والے کے لئے دعاؤں کی قبوليت کا مژدہ ہے، چنانچہ حديث شريف ميں ہے:
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللہُ عَنْھُمَا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''مَنْ أَرَادَ أَنْ
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہيں: شہنشاہ خوش خصال، پیکر حسن وجمال، دافع رنج و ملال، صاحب جودو نوال، رسول بے مثال بی بی آمنہ کے لال صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے
مدینــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (المعجم الکبير للطبراني،الحديث:۳۷۷،ج۱۹،ص۱۶۷)
Flag Counter