Brailvi Books

ضیائے صدقات
289 - 408
    (يعنی، عشق والا بندہ بن اے جامی! نسب کو چھوڑ دے کہ اس (عشق ) کی راہ ميں فلاں بن فلاں کی کوئی حيثيت نہيں)۔

کيا  تمہيں خبر نہيں کہ نوح علیہ السلام کی کشتی ميں کُتے بلّوں کے لئے جگہ تھی مگر ان کے کافر بيٹے کنعان کے لئے جگہ نہ تھی مقصد يہ ہے کہ شريف النّسب اعمال سے لاپرواہ نہ ہوجائيں يہ منشا نہيں کہ شرافتِ نسب کوئی چيز ہی نہيں۔۱؎

    ايک  اور حديث ميں ہے:
عَنْ أَبِيْ ھُرَيرۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''مَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ کُرْبَۃً جَعَلَ اللہُ تَعَالٰی لَہُ يومَ الْقِيا مَۃِ شُعْبَتَين مِنْ نُّوْرٍ عَلٰی الصِّرَاطِ يسْتَضِيْءُ بِضَوْئيْھِمَا عَالَمٌ لَّا يحصِيھِمْ إِلَّا رَبُّ الْعِزَّۃِ''.۲؎
حضرت ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں:نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجور، سلطان بحرو بر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا : جو کسی مسلمان سے پریشانی دور کریگا تو بروزِ قيا مت اللہ تعالیٰ پل صراط پر اُس کے لئے دو نور کے بُقعے روشن فرمائے گا جن کی ضیاء سے اس قدر مخلوق مستفیض ہوگی جن کی تعداد اللہ عزوجل کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ 

    تنگدست کو مہلت دینے یا قرض معاف کردینے والے بروزِ قيا مت اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سائے ميں ہوں گے، چنانچہ حدیث پاک میں ہے:
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابيح،ج۱،ص۱۹۰)

۲؎    (الترغيب والترھيب، کتاب الصدقات، الترغيب في التيسير علی المعسر...إلخ، الحديث:۱۰، ج۲، ص۲۲)
Flag Counter