Brailvi Books

ضیائے صدقات
288 - 408
اور ديکھی بھی جاتی ہے اس کی برکت سے دل سے غير خدا کا خوف جاتا رہتا ہے رحمت سے خالص رحمت مراد ہے جو بوقتِ ذکر ذاکر کو ہر طرف سے گھيرتی ہے فِرِشتوں سے سيا حين فرشتے مراد ہيں جو ذکر کی مجلسيں ڈھونڈتے پھرتے ہيں ورنہ اعمال لکھنے والے اور حفاظت کرنے والے فرشتے ہر وقت انسان کے ساتھ رہتے ہيں مقصد يہ ہے کہ جہاں مجمع کے ساتھ ذکر اللہ ہورہا ہو وہاں يہ تين رحمتيں اُترتی ہيں اس سے معلوم ہوا کہ تنہا ذکر سے جماعت کا مِلکر ذکر کرنا افضل ہے جماعت کی نماز کا درجہ زيا دہ کہ اگر ايک  کی قبول سب کی قبول۔۱؎

    ''اللہ عزوجل اسے اس جماعت میں یاد کرتا ہے جو اس کے پاس ہے'' اس کی وضاحت کرتے ہوئے مفتی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:یعنی فرشتوں کی جماعت، اسکی شرح ميں وہ حديث کہ فرمايا  نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جو ربّ کو اکیلے يا د کرے ربّ بھی اسے ايسے ہی يا د کرتاہے جو جماعت ميں يا د کرے ربّ اُسے فرشتوں ميں يا د کرتا ہے۔ قرآن کريم فرماتا ہے:
  (فَاذْکُرُوۡنِیۡۤ اَذْکُرْکُمْ)[البقرۃ:۲/۱۵۲]
 ترجمہ: تو ميری يا د کرو ميں تمہارا چرچا کروں گا (کنزالايمان)) اس ربّ کی يا د کا اثر يہ پڑتا ہے کہ مخلوق اُس بندے کو يا د کرنے لگتی ہے بزرگوں کے مزارات پر زائرين کا ہجوم وہاں ذکر اللہ کی دھوم اسی يا د کا نتيجہ ہے۔

    '' جسے عمل پيچھے کردے اُسے نسب نہيں بڑھا سکتا''اس کے تحت فرماتے ہیں: يعنی نسب کی شرافت عمل کی کمی کو پورا نہ کرے گی، شعر:

بندئہ عشق شدی ترکِ نسب کن جامی               کہ دريں راہ فلاں ابنِ فلاں چيزے نيست
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابيح،ج۱،ص۱۸۹۔۱۹۰)
Flag Counter