اور ديکھی بھی جاتی ہے اس کی برکت سے دل سے غير خدا کا خوف جاتا رہتا ہے رحمت سے خالص رحمت مراد ہے جو بوقتِ ذکر ذاکر کو ہر طرف سے گھيرتی ہے فِرِشتوں سے سيا حين فرشتے مراد ہيں جو ذکر کی مجلسيں ڈھونڈتے پھرتے ہيں ورنہ اعمال لکھنے والے اور حفاظت کرنے والے فرشتے ہر وقت انسان کے ساتھ رہتے ہيں مقصد يہ ہے کہ جہاں مجمع کے ساتھ ذکر اللہ ہورہا ہو وہاں يہ تين رحمتيں اُترتی ہيں اس سے معلوم ہوا کہ تنہا ذکر سے جماعت کا مِلکر ذکر کرنا افضل ہے جماعت کی نماز کا درجہ زيا دہ کہ اگر ايک کی قبول سب کی قبول۔۱؎
''اللہ عزوجل اسے اس جماعت میں یاد کرتا ہے جو اس کے پاس ہے'' اس کی وضاحت کرتے ہوئے مفتی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:یعنی فرشتوں کی جماعت، اسکی شرح ميں وہ حديث کہ فرمايا نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جو ربّ کو اکیلے يا د کرے ربّ بھی اسے ايسے ہی يا د کرتاہے جو جماعت ميں يا د کرے ربّ اُسے فرشتوں ميں يا د کرتا ہے۔ قرآن کريم فرماتا ہے: