Brailvi Books

ضیائے صدقات
286 - 408
وَحَفَّتْھُمُ الْمَلَاءِکَۃُ، وَذَکَرَھُمُ اللہُ فِيمَنْ عِنْدَہُ. وَمَنْ بَطَّأَ بِہِ عَمَلُہُ لَمْ يسْرِعْ بِہِ نَسْبُہُ''.۱؎
ہيں اوراللہ عزوجل اسے اس جماعت میں یاد کرتا ہے جو اس کے پاس ہے۔ اور جسے عمل پیچھے کردے اُسے نسب نہيں بڑھا سکتا۔

    حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:يعنی تم کسی کی فانی مصيبت دفع کرو اللہ تم سے باقی مصيبت دفع فرمائیگا تم مومن کو فانی دنيوی آرام پہنچاؤ اللہ تمہيں باقی اُخروی آرام دے گا کيونکہ بدلہ احسان کا احسان ہے يہ حديث بہت جامع ہے کسی مسلمان کے پاؤں سے کانٹا نکالنا بھی ضائع نہيں جاتا حديث کا مطلب يہ نہيں کہ صرف قيا مت ہی ميں بدلہ ملے گا بلکہ قيا مت ميں بدلہ ضرور ملے گا اگرچہ کبھی دنيا  ميں بھی مل جائے۔

    جو مقروض کو معافی يا  مہلت دے، غريب کی غربت دور کرے تو ان شاء اللہ دين و دنيا  ميں اسکی مشکليں آسان ہوں گی۔ مرقاۃ ميں فرمايا  کہ اس حکم ميں مومن کافر سب شامل ہيں کافر مصيبت زدہ کی مصيبت دور کرنے پر بھی ثواب مل جاتا ہے بلکہ حديث شريف ميں ہے کہ ايک  بازاری عورت نے پيا سے کُتے کو پانی پلاکر جان بچائی اللہ نے اُسے اسی پر بخش ديا ۔

    ''جو کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے''اس کے تحت حکیم الامت فرماتے ہیں: يا  تو اس طرح کہ ننگے کو کپڑے پہنائے يا  اُس کے چھُپے ہوئے عيب ظاہر نہ کرے بشرطيکہ
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (صحيح مسلم،کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار، باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن وعلی الذکر،الحديث:۲۶۹۹،ص۱۰۳۹)

(سنن الترمذي، کتاب القراء ات،۱۲۔ باب، الحديث:۲۹۴۵،ج۴،ص۴۱)

(مشکاۃ المصابيح، کتاب العلم، الفصل الأول، الحديث:۲۰۴،ج۱،ص۶۰)
Flag Counter