| ضیائے صدقات |
عَنْ بُرَيدَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم يقوْلُ: ''مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِراً فَلَہُ کُلَّ يومٍ مِثْلَہُ صَدَقَۃٌ''. ثُمَّ سَمِعْتُہُ يقوْلُ: ''مَنْأَنْظَرَ مُعْسِراً فَلَہُ کُلَّ يومٍ مِثْلَيہ صَدَقَۃٌ'' فَقُلْتُ: يا رَسُوْلَ اللہِ سَمِعْتُکَ تَقُوْلُ: مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِراً فَلَہُ کُلَّ يومٍ مِثْلَہُ صَدَقَۃٌ، ثُمَّ سَمِعْتُکَ تَقُوْلُ: مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِراً فَلَہُ کُلَّ يومٍ مِثْلَيہ صَدَقَۃٌ؟ قَالَ لَہُ: ''کُلَّ يومٍ مِثْلَہُ صَدَقَۃٌ قَبْلَ أَنْ يحلَّ الدَّين، فَإِذَا حَلَّ فَأَنْظَرَہُ فَلَہُ بِکُلِّ يومٍ مِثْلَيہ صَدَقَۃٌ''.۱؎
حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں: ميں نے آقائے مظلوم، سرور معصوم، حسن اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، محبوب ر ب اکبر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سُنا: جو کسی تنگدست کو مہلت دے اُس کے لئے روزانہ قرض کے برابر صدقہ کرنے کا ثواب ہے۔ پھرمیں نے ايک مرتبہ آپ کویہ فرماتے سُنا کہ جوکسی تنگدست کو مہلت دے اُس کے لئے روزانہ قرض سے دوگنا صدقہ کرنے کا ثواب ہے۔ تو ميں نے عرض کی: يا رسول اللہ! ميں نے آپ کو ارشاد فرماتے سُنا تھا کہجو کسی تنگدست کو مہلت دے اُس کے لئے روزانہ قرض کے برابر صدقہ کرنے کا ثواب ہے۔ پھر میں نے آپ کو يہ فرماتے سُنا کہ جو کسی تنگدست کو مہلت دے اُس کے لئے روزانہ قرض سے دوگنا صدقہ کرنے کا ثواب ہے۔ (اس کی کیا وجہ ہے؟)آپ نے ارشادفرمايا : روزانہ قرض کے برابر صدقہ کرنے کا ثواب ادائیگی کاوقت آنے سے پہلے ہے اور جب ادائیگی کاوقت آپہنچے پھروہ مقروض کو مزیدمہلت دے تو اس کے لئے روزانہ قرض سے دوگناصدقہ کرنے کا ثواب ہے۔
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (الترغيب والترھيب، کتاب الصدقات، الترغيب في التيسير علی المعسر...إلخ، الحديث:۸، ج۲، ص۲۲)