| ضیائے صدقات |
ملازمين کو ہر کسی سے نرمی کا برتاؤ رکھنے کا حکم دے رکھا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے سبب اس پرنرمی فرمائی، چنانچہ حديث شريف ميں ہے:
عَنْ أَبِيْ مَسْعُوْدٍ الْبَدَرِيِّ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:''حُوْسِبَ رَجُلٌ مِمَّنْ کَانَ قَبْلَکُمْ فَلَمْ يوجَدْ لَہُ مِنَ الْخَير شَيْءٌ إِلَّا أَنَّہُ کَانَ يخَالِطُ النَّاسَ وَکَانَ مُوْسِراً وَکَانَ يا مُرُ غِلْمَانَہُ أَنْ يتَجَاوَزُوْا عَنِ الْمُعْسِرِ. قَالَ اللہُ عزوجل: نَحْنُ أَحَقُّ بِذٰلِکَ تَجَاوَزُوْا عَنْہُ''.۱؎
حضرت ابو مسعود بدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں: سرکاروالا تبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیع روزشمار، دو عالم کے مالک و مختار، حبیب پروردگار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا : تم سے اگلے لوگوں میں سے ايک شخص کا محاسبہ کيا گيا اس کے پاس کوئی نیک عمل نہ پایا گیا سوائے اس کے کہ وہ عام لوگوں ميں گھُل مِل جاتا حالا نکہ وہ مالدار تھا اور اپنے خادمين کو حکم ديا کرتا کہ وہ تنگدست سے درگزر کريں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمايا : ہم اس بات کے زيا دہ حقدار ہيں،(اے فرشتو!) اس سے بھی درگزرکرو۔
ايک اور حديث ميں ارشاد نبوی ہے:مدینـــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (صحيح مسلم، کتاب المساقاۃ، باب فضل إنظار المعسر،الحديث:۱۵۶۱،ص۶۰۷) (سنن الترمذي،کتاب البيوع،باب ماجاء في إنظارالمعسر والرفق بہ،الحديث:۱۳۰۷،ج۲،ص۳۱۷) (المعجم الکبير للطبراني،الحديث:۵۳۷،ج۱۷،ص۲۰۱)