Brailvi Books

ضیائے صدقات
282 - 408
    کسی پر نرمی صرف مالی امداد کی صورت ہی ميں نہيں تجارتی معاملات ميں بھی ہوسکتی ہے۔ چنانچہ حديث شريف ميں ايک  شخص کے متعلق بيا ن ہوا:
عَنْ حُذَيفۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: ''أُتِيَ اللہُ بِعَبْدٍ مِّنْ عِبَادِہِ، آتَاہُ اللہُ مَالاً فَقَالَ لَہُ:مَاذَا عَمِلْتَ فِي الدُّنْيا ؟ قَالَ: وَلَا يک تُمُوْنَ اللہَ حَدِيثاً قَالَ: يا  رَبِّ آتَيتَنِيْ مَالَکَ. فَکُنْتُ أُبَايعُ النَّاسَ، وَکَانَ مِنْ خُلُقِي الْجَوَازُ. فَکُنْتُ أَتيسَّرُ عَلَی الْمُوْسِرِ، وَأُنْظِرُ الْمُعْسِرَ، فَقَالَ اللہُ تَعَالٰی: أَنَا أَحَقُّ بِذَا مِنْکَ، تَجَاوَزُوْا عَنْ عَبْدِيْ''.۱؎
حضرت حذيفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے ایک بندہ اس کے پاس لایا گیا جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا کہ تونے دنیا میں کیا عمل کیا؟ راوی کہتے ہیں لوگ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات چھپا نہیں سکتے،چنانچہ اس نے کہا اے میرے رب! تونے مجھے مال عطاکیا میں لوگوں سے خرید وفروخت کرتاتھا اور میری عادت تھی کہ میں درگزر کرتا پس میں مال دار پر آسانی کرتا اور تنگ دست کو مہلت دیتا اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں اس (درگزر کرنے )کا تجھ سے زیادہ حق دار ہوں (اے فرشتو!) میرے بندے سے درگزر کرو۔

    يوں ہی ايک  اور شخص کا تذکرہ پڑھئے جس نے تجارتی معاملات ميں اپنے
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــہ

=    (صحيح البخاري،کتاب البيوع، باب من أنظر معسراً، الحديث:۲۰۷۷،ج۲،ص۱۰۔۱۱)

(صحيح مسلم، کتاب المساقاۃ، باب فضل إنظار المعسر،الحديث:۱۵۶۰،۶۰۷)

(مشکاۃ المصابيح،کتاب البیوع،باب المساہلۃ فی المعاملات، الحديث:۲۷۹۱، ج۱، ص۵۱۸)

۱؎    (صحيح مسلم، کتاب المساقاۃ، باب فضل إنظار المعسر،الحديث:۱۵۶۰،ص۶۰۷۔۶۰۸)
Flag Counter