| ضیائے صدقات |
عَنْ أَبِيْ ھُرَيرۃَرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:''مَنْ يسَّرَ عَلٰی مُعْسِرٍ يسرَ اللہُ عَلَيہ فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَۃِ''.۱؎
حضرت ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں: شہنشاہ خوش خصال، پیکر حسن وجمال، دافع رنج و ملال، صاحب جودو نوال، رسول بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا : جو کسی تنگدست پر آسانی کرے تو اللہ تعالیٰ دنيا و آخرت ميں اس پر آسانی فرمائے گا۔
ايک اور حديث ميں ہے:عَنْ حُذَیْفَۃَ قَال:قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ: إِنَّ رَجُلًا کَانَ فِیْمَنْ قَبْلَکُمْ أَتَاہُ الْمَلَکُ لِیَقْبِضَ رُوْحَہ، فَقِیْلَ لَہٗ: ہَلْ عَمِلْتَ مِنْ خَیْرٍ؟قَالَ: مَا أَعْلَمُقِیْلَ لَہٗ اُنْظُرْ قَالَ: مَا أَعْلَمُ شَیْئًا غَیْرَ أَنِّیْ کُنْتُ أُبَایِعُ النَّاسَ فِی الدُّنْیَا وَ أُجَازِیْہِمْ فَأُنْظِرُ الْمُوْسِرَ وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمُعْسِرِ فَأَدْخَلَہُ اللہُ الْجَنَّۃَ.۲؎
حضرت حذيفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں: خاتم المرسلین، رحمۃ للعالمین، شفیع المذنبین، انیس الغریبین، سراج السالکین، محبوب رب العلمین، جناب صادق و امین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا : تم سے اگلے لوگوں میں ایک شخص تھا جس کے پاس اس کی روح قبض کرنے فرشتہ آیا تو اس سے کہا گیاکہ کيا تونے کوئی نیکی کی ہے؟وہ بولا: میں نہيں جانتااس سے کہا گیا: غور تو کر، بولا:اس کے سوا کچھ اور نہیں جانتا کہ ميں دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان پر تقاضا کرتا تھا تو امیرکومہلت دے ديتا اور غریب کو معافی چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسے جنت میں داخل فرمادیا۔
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (سنن ابن ماجہ، کتاب الصدقات، باب إنظار المعسر،الحديث:۲۴۱۷،ج۳،ص۱۵۶) ۲؎ (سنن الدارمي، کتاب البيوع، باب في السماحۃ،الحديث:۱۵۴۹/۱،ص۸۲۹) =