Brailvi Books

ضیائے صدقات
280 - 408
الْقَرْضِ أَفْضَلُ مِنَ الصَّدَقَۃِ؟ قَالَ: لِأَنَّ السَّاءِلَ يسالُ وَعِنْدَہُ وَالْمُسْتَقْرِضُ لَا يسْتَقْرِضُ إِلَّا مِنْ حَاجَۃٍ''.۱؎
کے صدقہ سے افضل ہونے کی کيا  و جہ ہے؟ توانہوں نے عرض کیا: اس لئے کہ سائل مانگتا ہے حالانکہ اس کے پاس مال موجود ہوتا ہے جبکہ قرض لینے والا بلا ضرورت قرض نہيں لیتا۔

    يونہی ايک  مرتبہ قرض دينے کا ثواب دو مرتبہ صدقہ کرنے کے برابر ہے، چنانچہ حديث شريف ميں ہے:
عَنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:''مَا مِنْ مُسْلِمٍ يقرِضُ مُسْلِماً قَرْضاً مَرَّۃً إِلَّا کَانَ کَصَدَ قَتِھَا مَرَّتَیْنِ''.۲؎
حضرت عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ شہنشاہ خوش خصال، پیکر حسن وجمال، دافع رنج و ملال، صاحب جودو نوال، رسول بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا : جو مسلمان کسی مسلمان کو ایک مرتبہ قرض ديتا ہے تو وہ ایسے ہوتا ہے جیسے دو مرتبہ صدقہ کیاہو۔

    يوں ہی تنگدست کے ساتھ شفقت اور نرمی کا برتاؤ رکھنے والے کے لئے بروزِ قيا مت مغفرت کی بشارت ہے، يعنی جو شخص دنيا  ميں پریشان حال کے لئے آسانی فراہم کریگا تو اللہ تعالیٰ اسے دنيا  ميں بھی چَين عطا کریگا اور آخرت ميں بھی

راحت اس کا مقدر ہوگی، چنانچہ حديث شريف ميں بيا ن ہے:
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (سنن ابن ماجہ،کتاب الصدقات، باب القرض،الحديث:۲۴۳۱،ج۳،ص۱۶۳۔۱۶۴)

۲؎    (سنن ابن ماجہ،کتاب الصدقات، باب القرض،الحديث:۲۴۳۰،ج۳،ص۱۶۳)

(الترغيب والترھیب، کتاب الصدقات، الترغیب فی القرض...الخ، الحدیث:۱۳۳۹،ج۱، ص۴۲۶)
Flag Counter