Brailvi Books

ضیائے صدقات
279 - 408
حاجت مند کو کچھ روپيہ قرض دينا  يا  نابينا  يا  ناواقف کو راستہ بتا دينے کا ثواب غلام آزاد کرنے کے برابر ہے جب قرض دينے کا يہ ثواب ہوا تو خيرات دے دينے کا کتنا ہوگا خود سوچ لو۔علمائے کرام فرماتے ہيں کہ کبھی قرض دينا  صدقہ دينے سے بڑھ جاتا ہے کيونکہ صدقہ تو غير حاجتمند بھی لے ليتا ہے مگر قرض ضرورت مند ہی ليتا ہے اس حديث سے معلوم ہوا کہ کبھی معمولی نيکي کا ثواب بڑے سے بڑے کام سے بڑھ جاتا ہے، پيا سے کو ايک  گھونٹ پانی پلاکر اس کی جان بچالينے کا ثواب سينکڑوں روپيہ خيرات کرنے سے زيا دہ ہے، اس لئے حديث شريف ميں ہے کہ قيا مت ميں نيک يوں کا ثواب بقدرِ عمل ملے گا۔۲؎

    صدقہ دينا  دس گنا ثواب رکھتا ہے جبکہ قرض دينا  اٹھارہ گُنا، حديث شريف ميں ہے:
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:''رَأَيتُ لَيلَۃَ أُسْرِيَ بِي عَلٰی بَابِ الْجَنَّۃِ مَکْتُوْباً: اَلصَّدَقَۃُ بِعَشْرِ أَمْثَالِھَا وَالْقَرْضُ بِثَمَانِيۃَ عَشَرَ فَقُلْتُ: يا  جِبْرِيلُ مَا بَالُ
حضرت انس بن مالک ضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں: سید المبلغین، رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا : شبِ معراج ميں نے جنت کے دروازے پر لکھا ديکھا صدقہ دس گُنا اور قرض اٹھارہ گنا (زيا دہ اجر رکھتا) ہے ميں نے کہا: اے جبريل! قرض
مدینــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (سنن الترمذي،کتاب البر الصلۃ، باب ما جاء في المنحۃ،الحديث:۱۹۵۷،ج۳،ص۹۰)

(مشکاۃ المصابيح،کتاب الزکاۃ، باب فضل الصدقۃ،الحديث:۱۹۱۷،ج۱،ص۳۶۳)

۲ ؎    (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابيح،ج۳،ص۱۰۷)
Flag Counter