Brailvi Books

ضیائے صدقات
28 - 408
مقدمہ
الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلـٰی سَیِّدِ الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنَ

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    اللہ تعالیٰ کا کروڑہا کروڑ احسان کہ اُس نے ہمیں انسان بنایابالخصوص ہمیں دولتِایمان سے سرفراز اور دامن ِمصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم عطا فرمایا۔در حقیقت تخلیق جن وانس کا مقصد خالق بحر وبر، مالکِ خشک وتر، رب العالمین عزوجل نے قرآن مجید میں اپنی عبادت فرمایا:
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلاَّ لِیَعْبُدُوْنِ
ترجمہ کنزالایمان: اور میں نے جن اور آدمی اتنے ہی لئے بنائے کہ میری بندگی کریں۔ (پ۲۷، الذٰرِیـٰت:۵۶)

    عبادت میں ہر وہ عمل شامل ہے جو اللہ عزوجل کی رِضا وخوشنودی کے حصول کے لئے کیا جائے۔ بعض عبادات فرض یا واجب ہوتی ہیں، جیسے نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، ان عبادات کے ترک پر عذابِ نار اور ناراضگی ربِّ قہّار کی وعیدیں ہیں۔ نیز بعض عبادات نفل ومستحب ہوتی ہیں، جیسے نفل نماز، نفلی روزہ، نفلی صدقات، تلاوتِ قرآن مجید، محافلِ ذکر ونعت کا انعقاد، نعت شریف پڑھنا وسننا، مدرسے چلانا، ایصالِ ثواب کے لئے کھانا کھلانا، لنگرِ رسائل کرنا وغیرہا۔مگر تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔ مثلاً کھانا کھانا ایک مباح عمل ہے لیکن اگر عبادت پر قوت کے حصول کی نیت سے کھایا جائے تو اب یہ عمل عبادت ہے اسی طرح بعض اوقات دکھاوے کی نیّت سے پڑھی گئی نماز انسان کے گنہگار ہونے کا سبب بن جاتی ہے۔ حالانکہ کھانا کھانے کے عمل کو نیکی نہیں سمجھا جاتا جبکہ نماز پڑھنا نیکی جانا جاتاہے۔دراصل اعمال کی جزا وسزا کی بنیاد اِخلاص
Flag Counter