Brailvi Books

ضیائے صدقات
274 - 408
بلاکراہت جائز ہے۔ يد سے مراد کوشش اور محنت ہے''۔۱؎

    جن چيزوں کا روکنا ممنوع ہے اس بارے میں حدیث پاک میں ارشادہے:
عَنِ امْرَأَۃٍ يقَالُ لَھَا بُھَيسَۃُ عَنْ أَبِيھا قَالَتِ اسْتَأْذَنَ أَبِي النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ بَينہُ وَبَين قَمِيصِہِ فَجَعَلَ يقَبِّلُ وَيلتَزِمُ، ثُمَّ قَالَ: يا نَبِيَّ اللہِ مَا الشَّيْءُ الَّذِيْ لَا يحلُّ مَنْعُہُ؟ قَالَ: ''الْمَائُ''. قَالَ: يا نَبِيَّ اللہِ مَا الشَّيْءُ الَّذِيْ لَا يحلُّ مَنْعُہُ؟ قَالَ: ''الْمِلْحُ''. قَالَ: يا نَبِيَّ اللہِ مَا الشَّيْءُ الَّذِيْ لَا يحلُّ مَنْعُہُ؟ قَالَ: ''أَنْ تَفْعَلَ الْخَير خَير لَکَ''.۲؎
ايک عورت جنہيں بُہیسہ کہا جاتا تھا، سے مروی ہے فرماتی ہيں ميرے والد نے سرکاروالا تبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیع روزشمار، دو عالم کے مالک و مختار، حبیب پروردگار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی اندر داخل ہوئے تو آپ کی قمیص مبارک کو اٹھا کر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے جسم اطہر کو چومنے لگے اور لپٹ گئے پھر عرض گزار ہوئے کہ یارسول اللہ وہ کیا چیزہے جس کا روکنا حلال نہیں؟ فرمایا کہ پانی،عرض گزار ہوئے کہ یانبی اللہ! وہ کیا چیز ہے جس کا روکنا جائز نہیں فرمایا کہ نمک عرض گزار ہوئے کہ یانبی اللہ! وہ کیا چیز ہے جس کا روکنا مناسب نہیں فرمایا کہ تمہارانیکی کرنا تمہارے لئے بہتر ہے۔

    مسلمان گھاس، پانی اور آگ ميں شريک ہيں، چنانچہ:
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎     (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابيح، ج۴، ص۳۴۲)

۲؎    (سنن أبي داود، کتاب الزکاۃ، باب ما لا یجوز منعُہ، الحديث: ۱۶۶۹،ج۲،ص۲۱۱)
Flag Counter