Brailvi Books

ضیائے صدقات
273 - 408
کَاذِبَۃٍ بَعْدَ الْعَصْرِ لِيَقْتَطِعَ بِھَا مَالَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ، وَرَجُلٌ مَنَعَ فَضْلَ مَاء، فَيَقُوْلُ اللہُ: الْيومَ أَمْنَعُکَ فَضْلِيْ کَمَا مَنَعْتَ فَضْلَمَا لَمْ تَعْمَلْ يداکَ'' الحديث.۱؎
جھوٹی قسم کھائے تاکہ اس قسم سے مسلمان شخص کا مال مارے اور ايک وہ شخص جو بچا ہوا پانی روکے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ آج ميں تجھ سے اپنا فضل روکتا ہوں جيسے تو نے بچا ہوا پانی روکا تھا جسے تيرے ہاتھوں نے نہ بنايا تھا۔

    ''کلام سے کلامِ محبت اور نظر سے نظرِ رحمت مراد ہے ورنہ غضب کا کلام اور قہر کی نظر تو کفار پر بھی ہوگی''۔

    ''گزرگاہ عام پر غير مملوک پانی اسکی حاجت سے زائد ہو، پھر وہ مسافروں اور جانوروں کو نہ پينے دے، لہٰذا اس حکم سے وہ لوگ خارج ہيں جو پانی بیچ کر اپنا گزارہ کرتے ہيں، کہ وہ پانی ان کے اپنے کنوئيں کا ہوتا ہے يا دور سے لايا ہوا''۔

    وہ فرمان کہ جسے تيرے ہاتھوں نے نہ بنايا تھا، ''اس جملہ ميں بھی اشارہ اس طرف ہے کہ اپنا کھودا ہوا کنواں يا اپنا جمع کيا ہوا پانی اپنی ملکيت ہے جسے فروخت کرنا
مدینــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (صحيح البخاري،کتاب المساقاۃ، باب من رآی أن صاحب الحوض والقربۃ أحق بمائہ، الحديث: ۲۳۶۹،ج۲،ص۸۹۔۹۰)

(صحيح مسلم، کتاب الإيمان، باب بيان غلظ...إلخ، الحديث: ۱۷۳۔(۱۰۸)،ص۵۹)

(سنن أبي داود، کتاب البيوع والإجارات، باب في منع المائ، الحديث: ۳۴۷۴،ج۳،ص۴۸۳)

(سنن ابن ماجہ، کتاب التجارات، باب ما جاء في کراھيۃ الأيمان...الخ،الحديث: ۲۲۰۷،ج۳، ص۴۴)

(سنن النسائي، کتاب البيوع، باب الحلف ...الخ،الحديث: ۴۴۶۲،ج۴،الجزء ۷،ص۲۸۳)

(مشکاۃ المصابيح، کتاب البيوع، باب إحياء الموات والشرب،الحديث: ۲۹۹۵،ج۱، ص۵۲۲)
Flag Counter