| ضیائے صدقات |
عَنْ رَجُلٍ مِّنَ الْمُھَاجِرِين مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثَلَاثاً أَسْمَعُہُ يقُوْلُ: ''الْمُسْلِمُوْنَ شُرَکَاءُ فِيْ ثَلَاثٍ: فِي الْکَلإَ، وَالْمَاء، وَالنَّارِ''.۱؎
ايک مہاجر صحابی ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں، ميں نے تين غزوات ميں آقائے مظلوم، سرورمعصوم، حسن اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، محبوب ر ب اکبر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کی آپ فرمايا کرتے تھے کہ مسلمان تين چيزوں ميں شريک ہيں، گھاس، پانی اور آگ۔
ايک اور حديث ميں تين چيزيں پانی، نمک اور آگ بيان ہوئيں، چنانچہ:عَنْ عَاءِشَۃَ رَضِيَ اللہُ عَنْھَا أَنَّھَا قَالَتْ: يا رَسُوْلَ اللہِ مَا الشَّيْءُ الَّذِيْ لَا يحلُّ مَنْعُہُ؟ قَالَ: ''الْمَائُ، وَالْمِلْحُ، وَالنَّارُ'' قَالَتْ: قُلْتُ: يا رَسُوْلَ اللہِ ھٰذَا الْمَائُ، وَقَدْ عَرَفْنَاہُ، فَمَا بَالُ الْمِلْحِ وَالنَّارِ؟ قَالَ: ''يا حُمَيرائُ، مَنْ أَعْطٰی نَاراً فَکَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِيع مَا أَنْضَجَتْ تِلْکَ النَّارُ، وَمَنْ أَعْطٰی مِلْحاً فَکَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِيع مَا
سيدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ آپ نے عرض کی، يا رسول اللہ کس چيز کا منع کرنا جائز نہيں؟ فرمايا، پانی، نمک اور آگ، فرماتی ہيں ميں نے عرض کی، يارسول اللہ پانی تو يہی ہے جس کا معاملہ ہم جانتے ہيں، مگر نمک اور آگ ميں کيا حکمت ہے؟ فرمايا اے حميراء! جو کسی کو آگ دے تو گويا اس نے وہ سب ديا جو (کھانا وغيرہ) آگ پکائے گی، اور جو کسی کو نمک دے تو گويااس نے وہ سب کچھ
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (سنن أبي داود، کتاب البيوع والإجارات، الحديث: ۳۴۷۷،ج۳،ص۴۸۴)