| ضیائے صدقات |
قَالَ: ''مَنْ حَفَرَ مَاءً لَمْ تَشْرَبْ مِنْہُ کَبِدٌ حَرّٰی مِنْ جِنٍّ وَلَا إِنْسٍ وَلَا طَاءِرٍ إِلَّا أَجَرَہُ اللہُ يومَ الْقِيامَۃِ''.۱؎
جناب صادق و امین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا، جو پانی کا کنواں کھُدوائے تو اسے بروزِ قيامت اس سے ہر ذی روح جِنّ و اِنس اور پرندے کے پانی پينے کا اجر اللہ تعالیٰ عطا فرمائے گا۔
اپنی ضرورت سے زائد پانی کو دوسروں سے روک لینے والے کے ليے حدیث پاک میں وعید آئی ہے چنانچہ:عَنْ أَبِيْ ھُرَيرۃَرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ''ثَلَاثَۃٌ لَا يکلِّمُھُمُ اللہُ يومَ الْقِيامَۃِ، وَلَا ينظُرُ إِلَيھمْ: رَجُلٌ حَلَفَ عَلٰی سَلْعَۃٍ لَقَدْ أُعْطِيَ بِھَا اَکَثَرَ مِمَّا أُعْطِيَ وَہُوَ کَاذِبٌ وَرَجُلٌ حَلَفَ عَلٰی يمين
حضرت ابو ہريرہ ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہيں، تاجداررسالت، شہنشاہ نبوت، مخزنِ جودوسخاوت، پیکر عظمت و شرافت، محبوب ر ب العزت،محسن انسانیت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا، تين شخص ہيں جن سے قيامت کے دن اللہ نہ کلام فرمائے گا اور نہ انہيں رحمت کی نظر سے ديکھے گا، ايک وہ شخص جوکسی سامان پر قسم کھائے کہ مجھے پہلے اس سے زيادہ قيمت ملتی رہی حالانکہ وہ جھوٹا ہو اور ايک وہ شخص جو عصر کے بعد
مدینــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (التاريخ الکبير للبخاري، باب النون، الحديث: ۱۰۴۶،ج۱،ص۳۳۱) (صحيح ابن خزيمۃ،باب في فضل المسجد وإن صغر المسجد ضاق، الحديث: ۱۲۹۲،ج۲،ص۲۶۹)