محمد الیاس عطارؔ قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ ''نماز کے احکام'' میں فرماتے ہیں:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سیدنا سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کہنا ہے کہ یہ کنواں ام سعد کے ليے ہے، اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کنواں سعد کی ماں رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ایصال ثواب کے ليے ہے ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمانوں کا گائے یا بکرے وغیرہ کو بزرگوں کی طرف منسوب کرنا مثلا یہ کہنا کہ '' یہ سیدنا غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہکا بکرا ہے'' اس میں کوئی حرج نہیں کہ اس سے مراد بھی یہی ہے کہ یہ بکرا غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایصال ثواب کے ليے ہے اور قربانی کے جانور کو بھی تو لوگ ایک دوسرے ہی کی طرف منسوب کرتے ہیں،مثلاً کوئی اپنی قربانی کی گائے لئے چلا آرہا ہو اور اگر آپ اس سے پوچھیں کہ یہ کس کی ہے تو اس نے یہی جواب دینا ہے '' میری گائے ہے'' جب یہ کہنے والے پر اعتراض نہیں تو ''غوث پاک کا بکرا'' کہنے والے پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ حقیقت میں ہر شے کا مالک اللہ عزوجل ہی ہے اور قربانی کی گائے ہو یا غوث پاک کا بکرا ہر ذبیحہ کے ذبح کے وقت اللہ عزوجل کا نام لیا جاتا ہے، اللہ وسوسوں سے نجات بخشے! آمین بجاہ النبی الامینصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم۱؎
کنواں کھدوانے والے کے لئے بروزِ قيامت بڑا اجر ہے، حديث شريف ميں ہے: