| ضیائے صدقات |
عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ سَعْداً أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يا رَسُوْلَ اللہِ: إِنَّ أُمِّيْ تُوُفِّیتْ، وَلَمْ تُوْصِ أَفَينفَعُھَا أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْھَا؟ قَالَ: ''نَعَمْ، وَعَلَيک بِالْمَاء''.۱؎
حضرت انس ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سعد شہنشاہ خوش خصال، پیکر حسن وجمال، دافع رنج و ملال، صاحب جودو نوال، رسول بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ ميں حاضر ہوئے عرض کی، يا رسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ميری والدہ فوت ہوگئيں اور وصيت نہيں کی، کيا ميں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو انہيں نفع پہنچے گا؟ فرمايا، ہاں اور تمہارے ليے پانی کا صدقہ کرنا بہترہے۔
دوسری روايت ميں ہے:عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قُلْتُ: يا رَسُوْلَ اللہِ إِنَّ أُمِّيْ مَاتَتْ فَأَيُّ الصَّدَقَۃِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ''الْمَائُ''، فَحَفَرَ بِئْراً وَقَالَ: ھٰذِہِ لِأُمِّ سَعْدٍ.۲؎
حضرت سعد بن عبادہ ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں، ميں نے عرض کی يارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ميری والدہ فوت ہوگئيں تو کون سا صدقہ ان کے لئے بہتر ہے؟ فرمايا، پانی، تو انہوں نے کنواں کھدوایا اور کہا يہ کنواں سعد کی ماں کے (ایصالِ ثواب کے) لئے ہے۔
شیخ طریقت، امیر اہل سنت، بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلالمدینــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (المعجم الأوسط للطبراني، الحديث: ۸۰۶۱،ج۸،ص۹۱) ۲؎ (سنن أبي داود،کتاب الزکاۃ، باب في فضل سقي الماء، الحديث: ۱۶۸۱،ج۲،ص۲۱۴) (سنن ابن ماجہ،کتاب الأدب، باب فضل صدقۃ الماء، الحديث: ۳۶۸۴،ج۴،ص۲۲۵)