Brailvi Books

ضیائے صدقات
269 - 408
بَعْدَ مَوْتِہِ وَھُوَ فِيْ قَبْرِہِ: مَنْ عَلَّمَ عِلْماً، أَوْ کَرٰی نَھْراً، أَوْ حَفَرَ بِئْراً، أَوْ غَرَسَ نَخْلاً، أَوْ بَنٰی مَسْجِداً، أَوْ وَرَّثَ مُصْحَفاً، أَوْ تَرَکَ وَلَداً یسْتَغْفِرُ لَہُ بَعْدَ مَوْتِہِ''.۱؎
اس کی قبر میں بھی پہنچتا ہے؛ جس نے کسی کو علم سکھایا یا کوئی نہر جاری کردی، یاکنواں کھدوا ديا، یادرخت لگوا ديا،یا مسجد بنوا دی،یا اپنے پیچھے قرآن شريف ورثہ میں چھوڑا یا ایسی اولاد چھوڑی جو اسکی موت کے بعد اس کے لئے دعائے مغفرت کرتی رہے۔

    اسی طرح کی فضيلت ايک اور حديث شريف ميں ہے کہ آپ عليہ الصلوٰۃ والسلام نے پانی پلانے کو سب سے بڑا اجر فرمايا، چنانچہ:
عَنْ أَبِيْ ھُرَيرۃَرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''لیسَ صَدَقَۃٌ أَعْظَمَ أَجْراً مِنْ مَاء''.۲؎
حضرت ابو ہريرہ ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ عزوجل کے محبوب، دانائے غیوب، منزہ عن العیوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے روايت بيان کرتے ہيں کہ آپ نے فرمايا،کسی صدقہ کا اجر پانی صدقہ کرنے کے اجر سے زيادہ نہيں۔

    حضرت سعد بن عبادہ ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ فوت ہوئيں تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے انہيں ان کی والدہ کے ایصالِ ثواب کے لئے کنواں کھود کر وقف کردينے کا حکم فرمايا:
مدینـــــــــــــــہ

۱؎ (الديباج للسيوطي،الحديث: ۱۶۳۲،ج۴،ص۲۲۸)

    (حلیۃ الاولیائ،قتادۃ بن عامۃ،الحدیث ۲۶۷۵،ج۲،ص۷۳۹)

۲؎ (شعب الإيمان،الباب الثاني والعشرون في الزکاۃ، فصل في إطعام الطعام وسقي المائ،الحديث: ۳۳۷۸،ج۳، ص۲۲۰۔۲۲۱)
Flag Counter