| ضیائے صدقات |
الْعَطَشِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: لَقَدْ بَلَغَ ھٰذَا الْکَلْبَ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِيْ کَانَ مِنِّيْ، فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلَأَ خُفَّہُ مَاءً، ثُمَّ أَمْسَکَہُ بِفِيہ حَتّٰی رَقِيَ فَسَقَی الْکَلْبُ فَشَکَرَ اللہُ لَہُ، فَغَفَرَ لَہُ''. قَالُوْا: يا رَسُوْلَ اللہِ: إِنَّ لَنَا فِي الْبَھَاءِمِ أَجْراً؟ فَقَالَ: ''فِيْ کُلِّ کَبِدٍ رَطْبَۃٍ أَجْرٌ''.۱؎
کی شدت سے کیچڑ چاٹ رہا ہے اس شخص نے سوچا اس کتے کو بھی ميری ہی طرح پياس لگی ہے، وہ دوبارہ کنوئيں ميں اُترا اپنے (چمڑے کے) موزے کو پانی سے بھرا ، اور موزہ اپنے منہ ميں دبا کر باہر آيا پھر اس پياسے کُتے کو پانی پلاديا اس کا فعل اللہ تعالیٰ کو پسند آيا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت فرمادی۔ صحابہ نے عرض کی، يا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کيا ہمارے لئے چوپايوں ميں بھی اجر ہے؟ فرمايا، ہر تر جگر (يعنی ذی روح) ميں ثواب ہے۔
بندے کے لئے سات چيزيں قبر ميں جانے کے بعد بھی (ثواب کی صورت ميں) جاری ہوتی ہيں:عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ''سَبْعٌ تَجْرِيْ لِلْعَبْدِ
حضرت انس بن مالک ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں، سید المبلغین، رحمۃللعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا، سات چيزيں ایسی ہیں جن کا اجر وثواب بندے کو مرنے کے بعد
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (صحيح البخاري،کتاب الأدب، باب رحمۃ الناس والبھائم،الحديث: ۶۰۰۹، ج۴،ص۸۹) (صحيح مسلم، کتاب السلام، باب فضل ساقي البھائم المحترمۃ وإطعامھا،الحديث: ۱۵۳۔(۲۲۴۴)، ص۸۸۵) (سنن أبي داود،کتاب الجھاد، باب ما ےؤمر بہ من القيام علی الدواب والبھائم، الحديث: ۲۵۵۰،ج۳،ص۳۷)