Brailvi Books

ضیائے صدقات
267 - 408
عَنْ مَحْمُوْدِ بْنِ الرَّبِيع أَنَّ سُرَاقَۃَ بْنَ جُعْشَمٍ قَالَ: يا رَسُوْلَ اللہِ، الضَّالَّۃُ تَرِدُ عَلٰی حَوْضِيْ فَھَلْ لِّيْ فِيھا مِنْ أَجْرٍ إِنْ سَقیتُھَا؟ قَالَ: ''اسْقِھَا، فَإِنَّ فِيْ کُلِّ ذَاتِ کَبِدٍ حَرَّاءَ أَجْراً''.۱؎
حضرت محمود بن ربيع سے مروی ہے کہ سراقہ بن جعشم نے عرض کی، يا رسول اللہ (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) بھٹکتی اُونٹنياں ميرے حوض پر آجاتی ہيں تو کيا ميرے لئے اُن کو پانی پلانے ميں ثواب ہے؟ فرمايا ان کو پلاديا کرو ہر گرم جگر والے ميں اجر ہے۔

    اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ايک شخص کی محض کتے کو پانی پلانے کے سبب مغفرت فرمادی، چنانچہ حديث شريف ميں ہے:
عَنْ أَبِيْ ھُرَيرۃَرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''بَينمَا رَجُلٌ يمشِيْ بِطَرِےْقٍ، اشْتَدَّ عَلَيہ الْحَرُّ فَوَجَدَ بِئْراً فَنَزَلَ فِيھا، فَشَرِبَ ثُمَّ خَرَجَ، فَإِذاً کَلْبٌ يلھَثُ، ياکُلُ الثَّرٰی مِنَ
حضرت ابو ہريرہ ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورپاک، صاحب لولاک، سیاح افلاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا، ايک روز ايک شخص کسی رستہ سے جارہا تھا کہ اسے سخت گرمی محسوس ہوئی اسے ايک کنواں مل گيا وہ کنوئيں ميں اُترا اور پانی پيا، جب باہر آيا تو ديکھا کہ ايک کتا ہانپ رہا ہے اور پیاس
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (صحيح ابن حبان، ذکر إعطاء اللہ جل وعلا الأجر لمن سقی کل ذات کبد حري،الحديث: ۵۴۲،ج۲، ص۲۹۹)

(المستدرک علی الصحيحين،الحديث: ۶۵۹۹،ج۳،ص۷۱۸)

(السنن الکبری للبيھقي،کتاب الزکاۃ، باب ما ورد في سقي الماء، الحديث: ۷۸۰۷،ج۴،ص۳۱۲)

(موارد الظمآن، باب في سقي المائ، الحديث: ۸۶۰،ص۲۱۸)
Flag Counter