Brailvi Books

ضیائے صدقات
266 - 408
حَتّٰی تَبْلُغَ بِھَا عَمَلَ الْجَنَّۃِ''.۱؎
پانی پلاؤ، بے شک تم اپنے مشکيزے کو نہ پھاڑو گے مگر اس (يعنی مشکيزے کے پھٹنے) سے پہلے اس عمل کے سبب جنت ميں پہنچ جاؤ گے۔

اپنے حوض سے غير کے جانوروں کو پلانا جائز و مستحسن ہے، چنانچہ حديث شريف ميں ہے:
عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللہُ عَنْھُمَا أَنَّ رَجُلاً جَاءَ إِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّيْ أَنْزَعُ فِيْ حَوْضِيْ حَتّٰی إِذَا مَلَأْتُہُ لإِبِلِيْ وَرَدَ عَلَيَّ الْبَعِير لِغَيريْ فَسَقیتُہُ فَھَلْ فِيْ ذٰلِکَ مِنْ أَجْرٍ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ''إِنَّ فِيْ کُلِّ ذَاتِ کَبِدٍ أَجْراً''.۲؎
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ ايک شخص نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجور، سلطان بحرو برصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ ميں حاضر ہوا عرض کی، ميں اپنے حوض سے پانی نکالتا ہوں يہاں تک کہ ميں اپنے اونٹ کے لئے پانی بھرتا ہوں تو کسی اور کا اُونٹ بھی ميرے پاس آجاتا ہے تو اُس کو بھی پلاديتا ہوں۔ تو کيا اس ميں ميرے لئے ثواب ہے؟ فرمايا، ہر جگر والے کے ساتھ بھلائی کرنے ميں اجر ہے۔

    ايک اور حديث شريف ميں ہے:
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (المعجم الکبير للطبراني،الحديث: ۱۲۶۰۵،ج۱۲،ص۱۰۴)

۲؎     (المسند للإمام أحمد،مسند عبد اللہ بن عمرو بن العاص،الحديث: ۷۰۷۵،ج۲،ص۷۲۰)

(الترغیب والترہیب،کتاب الصدقات،الترغیب فی اطعام الطعام...الخ،الحدیث۱۴۲۴،ج۱، ص۴۵۰)
Flag Counter