| ضیائے صدقات |
فَلَعَلَّکَ لَا يھلِکُ بَعِيرکَ، وَلَا ينخَرِقُ سِقَاؤُکَ حَتّٰی تَجِبَ لَکَ الْجَنَّۃُ''. قَالَ: فَانْطَلَقَ الْأَعْرَابِيُّ يکبِّرُ فَمَا انْخَرَقَ سِقَاؤُہُ، وَلَا ھَلَکَ بَعِيرہُ حَتّٰی قُتِلَ شَھِيداً.۱؎
کے پاس جاؤ جو بہت کم پانی پاتے ہیں۔ انہیں پلاؤ اس اُمید پر کہ تمہارا اونٹ ہلاک ہونے سے پہلے اور تمہارا مشکیزہ پھٹنے سے پہلے تمہارے لئے جنت واجب ہوجائے گی۔'' راوی کہتے ہیں: اعرابی تکبیر کہتا ہو ا گیا،اس کے مشکیزہ پھٹنے سے پہلے اور اونٹ کے ہلاک ہونے سے پہلے وہ جام شہادت نوش کر گیا۔
ايک اور حديث ميں ہے:عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللہُ عَنْھُمَا، قَالَ: أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ: مَا عَمَلٌ إِنْ عَمِلْتُ بِہِ دَخَلْتُ الْجَنَّۃَ؟، قَالَ: ''أَنْتَ بِبَلَدٍ یجْلَبُ بِہِ الْمَائُ''؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: ''فَاشْتَرِ بِھَا سِقَائً جَدِيداً، ثُمَّ اسْقِ فِيھا حَتّٰی تُخَرِّقَھَا، فَإِنَّکَ لَنْ تُخَرِّقَھَا
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ شہنشاہ مدینہ،قرارقلب و سینہ، صاحب معطر پسینہ، باعث نزول سکینہ، فیض گنجینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ ميں ايک شخص نے حاضر ہوکر عرض کی کہ وہ کونسا عمل ہے جس کے ذريعہ ميں جنت ميں جاؤں؟ فرمايا، کيا تم ايسے شہر ميں ہو جہاں پانی باہر سے لايا جاتا ہے؟ عرض کی جی ہاں، فرمايا تم وہاں ايک نيا مشکيزہ خريدو پھر اس کے پھٹنے تک لوگوں کو
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (المصنف لعبد الرزاق،کتاب الجامع، باب سقي الماء،الحديث: ۴۴۶۴،ج۱۰،ص۶۲۔۶۳) (السنن الکبری،کتاب الزکاۃ، باب ما ورد في سقي الماء،الحديث: ۷۸۰۹،ج۴، ص۳۱۲)