Brailvi Books

ضیائے صدقات
264 - 408
عَنْ کُدَير الضَّبِّيِّ أَنَّ رَجُلاً أَعْرَابِيا أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَخْبِرْنِيْ بِعَمَلٍ یقَرِّبُنِيْ مِنَ الْجَنَّۃِ وَيباعِدُنِيْ مِنَ النَّارِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ''أَوَ ھُمَا أَعْمَلَتَاکَ''؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ''تَقُوْلُ الْعَدْلَ، وَتُعْطِي الْفَضْلَ''. قَالَ: وَاللہِ لَا أَسْتَطِيع أَنْ أَقُوْلَ الْعَدْلَ کُلَّ سَاعَۃٍ، وَمَا أَسْتَطِيع أَنْ أُعْطِيَ الْفَضْلَ. قَالَ: ''فَتُطْعِمُ الطَّعَامَ وَتُفْشِي السَّلَامَ''؟ قَالَ: ھٰذِہِ أَیض اً شَدِيدۃٌ. قَالَ: ''فَھَلْ لَکَ إِبِلٌ''؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: ''فَانْظُرْ إِلٰی بَعِير مِنْ إِبِلِکَ وَسِقَائٍ، ثُمَّ اعْمِدْ إِلٰی أَھْلِ بَيت لَا یشْرَبُوْنَ الْمَاءَ إِلَّا غِبّاً فَاسْقِھِمْ
حضرت کدير ضبی سے مروی ہے کہ ايک اعرابی بارگاہِ نبوی ميں حاضر ہوئے عرض کی، مجھے کوئی ايسا عمل بتائيے جو مجھے جنت سے قريب اور جہنم سے دُور کردے؟ تو نبی مکرم،نورمجسم، رسول اکرم، شہنشا ہ بنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا، ''کيااسی چیز نے تمہیں میرے پاس آنے اور سوال کرنے پر ابھارا؟''، عرض کی ہاں، تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا، ''حق بات کہو اور اپنی حاجت سے زائد کو صدقہ کردو، ''عرض کی اللہ کی قسم ميں ہر وقت نہ حق بات کہنے کی طاقت رکھتا ہوں اور نہ زائد کو صدقہ کرنے کی استطاعت، فرمايا،'' تو کھانا کھِلاؤ اور سلام کو عام کرو ''انہوں نے عرض کی:یہ بھی اسی طر ح سخت ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا :''کیا تمہارے پاس اُونٹ ہے؟'' انہوں نے عرض کی:جی ، ہاں! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ آلہ وسلم نے ارشاد فر ما یا : '' اپنا ایک اونٹ اور مشکیزہ لے کر ان لوگوں
Flag Counter