| ضیائے صدقات |
فَسَقیتُکَ؟ قَالَ: قَدْ عَرَفْتُ، قَالَ: فَاشْفَعْ لِيْ بِھَا عِنْدَ رَبِّکَ. قَالَ: فَيسالُ اللہَ تَعَالٰی فَیَقُوْلُ: إِنِّيْ أَشْرَفْتُ عَلَی النَّارِ فَنَادَانِيْ رَجُلٌ مِنْ أَھْلِھَا، فَقَالَ لِيْ ھَلْ تَعْرِفُنِيْ؟ قُلْتُ: لَا، وَاللہِ مَا أَعْرِفُکَ مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا الَّذِيْ مَرَرْتَ بِيْ فِي الدُّنْيا فَاسْتَسْقیتَنِيْ شَرْبَۃً مِنْ مَاءٍ فَسَقیتُکَ، فَاشْفَعْ لِيْ عِنْدَ رَبِّکَ فَشَفِّعْنِيْ فِيہ فَیشَفِّعُہُ اللہُ فَیَأْمُرُ بِہِ، فَيخرَجُ مِنَ النَّارِ''.۱؎
اور ميں نے تجھے پانی پلايا تھا، تو کہے گا ہاں پہچان گيا، تو وہ (جہنمی) کہے گا: تو اپنے رب کے پاس ميرے لئے شفاعت کر! راوی فرماتے ہيں، پھر وہ جنتی رب تعالیٰ سے شفاعت طلب کریگا عرض کریگا، ميں نے جہنم ميں جھانکا تو مجھے ايک جہنمی نے آواز دے کر کہا تو مجھے جانتا ہے؟ ميں نے جواب ديا نہيں اللہ کی قسم ميں تجھے نہيں جانتا تو کون ہے؟ تو اس نے جواب ديا ميں وہی ہوں جس کے پاس سے تو دنيا ميں گزرا تھا اور پینے کے ليے پانی مانگا تھااور ميں نے تجھے پانی پلايا تھا ا س ليے اپنے رب سے ميری سفارش کر، لہٰذا (اے رب) تو اس کے حق میں میرے سفارش قبول فرما، تو اللہ تعالیٰ اس کی شفاعت قبول فرمائے گا اور اس کے بارے میں حکم فرمائے گا لہٰذا اس کو جہنم سے نکال ليا جائے گا۔
ايک اور حديث شريف:مدینــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (التخويف من النار، الباب الثالث والعشرون في نداء أھلِ النار أھلَ الجنۃ...إلخ، ص۱۵۸) (الترغیب والترہیب،کتاب الصدقات،الترغیب فی اطعام الطعام...الخ،الحدیث۱۴۲۱، ج۱، ص۴۴۸)