Brailvi Books

ضیائے صدقات
262 - 408
آثَرَنِيْ عَلٰی نَفْسِہِ، يا رَبِّ: ھَبْہُ لِيْ فَيقُوْلُ: ھُوَ لَکَ فَيجِيئُ فَياخُذُ بِيد أَخِيہ فَيدخِلُہُ الْجَنَّۃَ''.۱؎
آکر رب تعالیٰ سے دُعا کریگا،عرض کریگا اے پروردگار تو اُس شخص کا مجھ پر احسان جانتا ہے، کيسے اس نے ميری جان بچائی تھی! اے رب اس کا معاملہ مجھے سونپ دے! تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا وہ تيرے حوالے!، پھر وہ نيک بندہ آئے گا اور اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑ کر جنت ميں لے جائے گا۔

    ايک اور حديث شريف ميں ايک ايسے شخص کا بيان آيا ہے جس کے حق ميں پانی پلانے کے سبب شفاعت قبول ہوگئی۔
عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ''أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَھْلِ الْجَنَّۃِ يشْرِفُ يوْمَ الْقِيامَۃِ عَلٰی أَھْلِ النَّارِ، فَينادِيہ رَجُلٌ مِنْ أَھْلِ النَّارِ، فَيقُوْلُ: يا فُلَانُ ھَلْ تَعْرِفُنِيْ؟ فَيقُوْلُ: لَا، وَاللہِ مَا أَعْرِفُکَ مَنْ أَنْتَ؟ فَيقُوْلُ: أَنَا الَّذِيْ مَرَرْتَ بِيْ فِي الدُّنْيا فَاسْتَسْقَيتَنِيْ شَرْبَۃً مِّنْ مَّاء
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے روايت بيان فرماتے ہيں، بروزِ قيامت ايک جنتی جہنميوں کو جھانکے گا تو جہنميوں سے ايک شخص اُسے پکارے گا اور کہے گا اے فلاں تو مجھے جانتا ہے؟ تو وہ کہے گا نہيں، اللہ کی قسم ميں تجھے نہيں جانتا، تو کون ہے؟ تو وہ (جہنمی) کہے گا ميں وہی ہوں جس کے پاس سے تو دنيا ميں گزرا تھا اور پینے کے ليے پانی مانگا تھا۔
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (المعجم الأوسط للطبراني، الحديث: ۲۹۰۶،ج۳، ص۱۹۴)
Flag Counter