Brailvi Books

ضیائے صدقات
261 - 408
إِلَيہ، وَھُوَ صَرِيع فَقَالَ:واللہِ إِنْ مَاتَ ھٰذَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ عَطَشاً، وَمَعِيَ مَاءٌ لَا أُصِيب مِنَ اللہِ خَيراً أَبَداً، وَلَءِنْ سَقَيتُہُ مَاءِيْ لَأَمُوْتَنَّ فَتَوَکَّلَ عَلَی اللہِ وَعَزَمَ فَرَشَّ عَلَيہ مِنْ مَّاءِہِ وَسَقَاہُ فَضْلَہُ، فَقَامَ فَقَطَعَ الْمَفَازَۃَ فَيوْقَفُ الَّذِيْ بِہِ رَھَقٌ لِّلْحِسَابِ فَيؤْمَرُ بِہِ إِلَی النَّارِ فَتَسُوْقُہُ الْمَلَاءِکَۃُ فَيری الْعَابِدَ، فَيقُوْلُ: يا فُلَانُ أَمَا تَعْرِفُنِيْ؟ فَيقُوْلُ: وَمَنْ أَنْتَ؟ فَيقُوْلُ: أَنَا فُلَانٌ الَّذِيْ آثَرْتُکَ عَلٰی نَفْسِيْ يوْمَ الْمَفَازَۃِ، فَيقُوْلُ: بَلٰی أَعْرِفُکَ، فَيقُوْلُ لِلْمَلَاءِکَۃِ قِفُوْا فَيقِيفوْنَ، فَيجِيئُ حَتّٰی يقِفَ فَيدعُوْ رَبَّہُ فَيقُوْلُ: يا رَبِّ: قَدْ عَرَفْتَ يدہُ عِنْدِيْ،وَکَيف
ان ميں ايک عبادت گزار تھا جبکہ دوسرا گنہگار، تو عابد کو پياس لگی يہاں تک کہ وہ شدّتِ پياس سے گر پڑا تو اس کے ساتھی نے اسے ديکھا کہ وہ بے ہوشی کی حالت میں پڑا ہوا ہے، اُس نے سوچا کہ اگر يہ نيک بندہ مرگيا حالانکہ ميرے پاس پانی بھی ہے، تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے میں کبھی بھلائی نہ پاسکوں گا، اور اگر ميں نے اس کو پانی پلاديا تو ميں مرجاؤں گا، بہرحال اس نے اللہ پر بھروسہ کيا اور (اس کی مدد کا) ارادہ کیا کچھ پانی اس پر چھڑکا باقی اُسے پلاديا تو وہ کھڑا ہوگيا اور (دونوں نے) صحراطے کرلیا۔(مرنے کے بعد) گنہگار کا حساب ہوگا تو اُسے جہنم کا حکم سُنا ديا جائے گا اُسے فرشتے لے کر چليں گے اُسی لمحے اُس کی نظر نيک بندے پر پڑے گی وہ کہے گا، اے فلاں کيا تو نے مجھے پہچانا؟ تو وہ کہے گا: تو کون ہے؟ کہے گا ميں وہی ہوں جس نے بيابان والے دن تيری جان بچائی تھی!، تو وہ کہے گا، ہاں ہاں پہچان گيا تو وہ نيک بندہ فِرشتوں سے کہے گا ٹھہرو، تو وہ ٹھہرجائيں گے پھر وہ
Flag Counter