Brailvi Books

ضیائے صدقات
260 - 408
    يعنی اللہ تعالیٰ نے بھوکوں کو کھلانے والوں کے لئے وہ فضيلت عطا فرمائی کہ ان کے لئے جنت کا ايک دروازہ مختص فرماديا۔

    اللہ تعالیٰ کھلانے والوں پر فخر فرماتا ہے، حديث شريف ميں ہے:
عَنْ جَعْفَرٍ الْعَبْدِيِّ وَالْحَسَنِ قَالَا: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ''إِنَّ اللہَ عَزَّوَجَلَّ يباھِيْ مَلَاءِکَتَہُ بِالَّذِين یطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ مِنْ عَبِيدہِ''.۱؎
حضرت جعفر عبدی اور حسن سے مروی ہيں، فرماتے ہيں،سرکاروالا تبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیع روزشمار، دو عالم کے مالک و مختار، حبیب پروردگار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا، بے شک اللہ عزوجل اپنے ان بندوں سے جو لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں اپنے فرشتوں کے ساتھ مباہات فرماتا ہے۔ 

    ايک گنہگار کو فقط پانی پلانے پر مغفرت ملی، چنانچہ حديث شريف ميں ہے:
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنْ نَبِيِّ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''رَجُلَانِ سَلَکَا مَفَازَۃً عَابِدٌ، وَالْآخَرُ بِہِ رَھَقٌ فَعَطِشَ الْعَابِدُ حَتّٰی سَقَطَ فَجَعَلَ صَاحِبُہُ ينظُرُ
حضرت انس بن مالک ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، وہ آقائے مظلوم، سرورمعصوم، حسن اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، محبوب ر ب اکبر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے روايت بيان کرتے ہيں کہ آپ نے فرمايا، دو شخص صحرا سے گزر رہے تھے
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

=    (الکامل في ضعفاء الرجال، ج۵،ص۱۱۸)

(ميزان الاعتدال في نقد الرجال، ج۵، ص۳۵۰)

(کشف الخفاء، الحديث: ۱۰۸۷، ج۱،ص۴۰۵)

۱؎     (الفتاوی الرضویۃ،ج۲۳،ص۱۴۹۔الترغيب والترھيب،کتاب الصدقات، الترغيب في إطعام الطعام ...إلخ،الحديث: ۲۱،ج۲، ص۳۷)
Flag Counter