| ضیائے صدقات |
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟، قَالَ: ''إِدْخَالُکَ السُّرُوْرَ عَلٰی مُؤْمِنٍ أَشْبَعْتَ جَوْعَتَہُ، أَوْ کَسَوْتَ عَوْرَتَہُ، أَوْ قَضَيت لَہُ حَاجَتَہُ''.۱؎
حضرت عمر بن خطاب ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں، خاتم المرسلین، رحمۃللعالمین، شفیع المذنبین، انیس الغریبین، سراج السالکین، محبوب رب العالمین، جناب صادق و امین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ ميں کسی نے عرض کیا، کون سا عمل افضل ہے؟ فرمايا، تمہارا کسی مومن کو پیٹ بھر کھانا کھلا کریا اس کے ستر کوچھپا کر یا اس کی کسی حاجت کوپورا کرکے اسے خوش کردینا۔
مسلمان کو پيٹ بھر کھلانے والا جنت ميں خاص دروازے سے داخل ہوگا، چنانچہ:عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''مَنْ أَطْعَمَ مُؤْمِناً حَتّٰی یشْبِعَہُ مِنْ سَغَبٍ أَدْخَلَہُ اللہُ بَاباً مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ لَا يدخُلُہُ إِلَّا مَنْ کَانَ مِثْلَہُ''.۲؎
حضرت معاذ بن جبل ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ تاجدار رسالت، شہنشاہ نبوت، مخزنِ جودوسخاوت، پیکر عظمت و شرافت، محبوب ر ب العزت،محسن انسانیت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے روايت بيان کرتے ہيں، جو کسی مسلمان کو بھوک ميں کھانا کھِلاکر سير کردے تو اللہ تعالیٰ اُسے جنت ميں اُس دروازے سے داخل فرمائے گا جس ميں سے ايسے ہی لوگ داخل ہوں گے۔
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (المعجم الأوسط للطبراني،الحديث: ۵۰۸۱،ج۵، ص۲۰۲) ۲؎ (المعجم الکبير للطبراني، الحديث: ۱۶۲،ج۲۰،ص۸۵) =