Brailvi Books

ضیائے صدقات
258 - 408
بَکْرٍ: أَنَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ''مَا اجْتَمَعَتْ ھٰذِہِ الْخِصَالُ قَطُّ فِيْ رَجُلٍ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّۃَ''.۱؎
کی، ميں نے، فرمايا، آج تم ميں سے کس نے کسی بيمار کی عيادت کی ؟ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی ميں نے، فرمايا کہ جس شخص ميں يہ خصلتيں جمع ہوجائيں وہ جنّت ہی ميں جاتا ہے۔

    حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا جماعتِ صحابہ سے يہ سوال فرمانا، ان پر صديق اکبر ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فضيلت ظاہر کرنے اور انہيں آپ کے روزانہ کے اعمال دکھانے کے لئے ہے، ورنہ حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تو ہر ايک کے سارے ظاہر و خفيہ اعمال سے خبردار ہيں۔

    اس حديث سے چند مسئلے معلوم ہوئے، ايک يہ کہ شيخ کا اپنے مريدوں کے حالات کی تفتیش کرنا، يونہی استاد کا شاگردوں کے خفيہ حالات معلوم کرنا سنت سے ثابت ہے، دوسرے يہ کہ اُمّتی کا نبی سے، مريد کا شيخ سے، شاگرد کا استاد سے اپنی خفيہ نيکياں بيان کرنا ريا نہيں، بلکہ انکی دعاء لے کر زيادہ قابل قبول بنانا ہے، تیسرے يہ کہ حضرت صديق اکبر ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ عابد ترين صحابی ہيں، کہ آپکے روزانہ کے يہ اعمال ہيں خيال رہے کہ أَنَا يعنی ميں کہنا فخر وغيرہ کے لئے ہو تو منع ہے، عجز و نياز کے طور پر جائز ہے، چوتھے يہ کہ ابو بکر صديق ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ بشہادتِ حديث و قرآن جنتی ہيں۔۲؎
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (صحيح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب من جمع الصدقۃ وأعمال البر،الحديث: ۸۷۔(۱۰۲۸)، ص۳۶۹)

(مشکاۃ المصابيح،کتاب الزکاۃ، باب فضل الصدقۃ، الحديث: ۱۸۹۱،ج۱ ،ص۳۵۹)

۲؎ (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابيح، ج۳، ص ۹۴۔۹۵)
Flag Counter