Brailvi Books

ضیائے صدقات
257 - 408
وہ اپنی جانوں پر ظلم کريں (کنزالايمان)) الآيۃ
(لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا ﴿۶۴﴾
 ترجمہ: تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائيں (کنزالايمان[النساء:۴/۶۴) صوفياء فرماتے ہيں اس کے معنی يہ ہيں کہ جو گنہگار تمہارے پاس آجائے وہ خدا کو پالے گا، مولانا کے شعر کا ماخذ يہ آيت اور يہ حديث ہے''۔۱؎

    روزہ دار، مسکين کو کھانا کھلانے والے، جنازہ ميں شريک ہونے والے اور مریض  کی عيادت کرنے والوں کے لئے بھی جنت کی بشارت فرمائی:
عَنْ أَبِيْ ھُرَيرۃَرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ''مَنْ أَصْبَحَ مِنْکُمُ الْيوْمَ صَاءِماً''؟، فَقَالَ: أَبُوْ بَکْرٍرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ: أَنَا، فَقَالَ: ''مَنْ أَطْعَمَ مِنْکُمُ الْيوْمَ مِسْکِيناً''؟، فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ: أَنَا. قَالَ: ''مَنْ تَبِعَ مِنْکُمُ الْيوْمَ جَنَازَۃً''؟، قَالَ أَبُوْ بَکْرٍرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ: أَنَا، فَقَالَ: ''مَنْ عَادَ مِنْکُمُ الْيوْمَ مَرِيضاً''؟ قَالَ: أَبُوْ
حضرت ابو ہريرہ ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہيں، اللہ عزوجل کے محبوب، دانائے غیوب، منزہ عن العیوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا، آج تم ميں سے کس نے روزہ دار ہوکر صبح کی؟ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ميں نے، فرمايا آج تم ميں سے کس نے مسکين کو کھِلايا؟ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی، ميں نے، فرمايا، آج تم ميں سے کس نے جنازے ميں شرکت کی حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح،ج۲،ص۴۰۶ )
Flag Counter