| ضیائے صدقات |
تو آج ميرے پاس وہ پاتا۔
''اس ميں اشارۃً يہ فرمايا گيا کہ بندہ مومن بيماری کی حالت ميں رب تعالیٰ سے اتنا قريب ہوتا ہے کہ اس کے پاس آنا گويا رب کے پاس ہی آنا ہے اور اس کی خدمت گويا رب کی اِطاعت ہے بشرطيکہ صابر و شاکر ہو کيونکہ بيمار مومن کا دل ٹوٹا ہوتا ہے اور ٹوٹے دلِ بيمار، کاشانہ يار ہيں حديث قدسی ہے:أَنَا عِنْدَ الْمُنْکَسِرَۃِ قُلُوْبُھُمْ لِأَجَلِيْ،
ميں ٹوٹے دل والوں کے پاس ہوں، اس ترتيب سے معلوم ہورہا ہے کہ بيمار پرسی اگلے اعمال سے افضل ہے، کيونکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کا ذکر پہلے کيا''۔
اور حديث شريف ميں جو فرمايا کہ، اگر کھلاتا تو اسے ميرے پاس پاتا، ''يعنی اس کھانے کا ثواب يہاں پاتا، خيال رہے کہ بيمار پرسی کے بارے ميں فرمايا تو بيمار کے پاس مجھے پاتا اور بھوکوں کو کھانا کھلانے کے بارے ميں فرمايا کہ تو اس کا ثواب يہاں پاتا، معلوم ہوا کہ بيمار پرسی بہت اعلیٰ عبادت ہے''۔
''اس حديث سے معلوم ہوا کہ فقراء مساکين اللہ کی رحمت ہيں ان کے پاس جانے، ان کی خدمتيں کرنے سے رب مل جاتا ہے، تو اولياء اللہ کا کيا پوچھنا ان کی صحبت رب سے ملنے کا ذريعہ ہے مولانا فرماتے ہيں: شعر
ہر کہ خواہد ہم نشينی باخدا ز او نشيند در حضور اولياء
قرآن کريم فرماتا ہے:( وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا)
(ترجمہ: اور اگر جب
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (صحيح مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب فضل عيادۃ المریض ، الحديث: ۴۳۔(۲۵۶۹)،ص۹۹۷) (مشکاۃ المصابيح،کتاب الجنائز، باب عيادۃ المريض وثواب المرض،الحديث: ۱۵۲۸، ج۱، ص۲۹۴)