| ضیائے صدقات |
عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللہُ عَنْھُمَا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ''مَنْ أَطْعَمَ أَخَاہُ خُبْزاً حَتّٰی یشْبِعَہُ، وَسَقَاہُ مِنَ الْمَاءِ حَتّٰی يروِيہ بَعَّدَہُ اللہُ مِنَ النَّارِ سَبْعَ خَنَادِقَ کُلَّ خَنْدَقٍ مَسِيرۃَ خَمْسِمِائَۃِ عَامٍ''.۱؎
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہيں، نبی مکرم،نورمجسم، رسول اکرم، شہنشا ہ بنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا، جو اپنے بھائی کو کھلا کر سير کردے اور پلا کر سيراب کردے، تو اللہ تعالیٰ اُسے جہنم سے سات خندقیں دور فرمادے گا جن میں سے ہر خندق کی درمیانی مسافت پانچ سو سال ہوگی۔
ہر تر جگر يعنی ہر ذی روح کی شکم سيری افضل صدقہ فرمايا گيا:عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ''أَفْضَلُ الصَّدَقَۃِ أَنْ تُشْبِعَ کَبِداً جَاءِعاً''.۲؎
حضرت انس ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں، شہنشاہ مدینہ،قرارقلب و سینہ، صاحب معطر پسینہ، باعث نزول سکینہ، فیض گنجینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا، افضل صدقہ يہ ہے کہ تو بھوکے کليجے کو سير کردے۔
ايک اور حديث شريف ميں ہے:مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (شعب الإيمان،باب في الزکاۃ، فصل في إطعام الطعام وسقي الماء، الحديث: ۳۳۶۸، ج۳، ص۲۱۸) ۲؎ (شعب الإيمان، باب في الزکاۃ، فصل في إطعام الطعام وسقي الماء،الحديث: ۳۳۶۷،ج۳، ص۲۱۷)