Brailvi Books

ضیائے صدقات
254 - 408
عَنْ أَبِيْ سَعِيدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ''أَيما مُؤْمِنٍ أَطْعَمَ مُؤْمِناً عَلٰی جُوْعٍ أَطْعَمَہُ اللہُ يوْمَ الْقِيامَۃِ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّۃِ، وَأَيما مُؤْمِنٍ سَقٰی مُؤْمِناً عَلٰی ظَمَإٍ سَقَاہُ اللہُ يوْمَ الْقِيامَۃِ مِنَ الرَّحِيق الْمَخْتُوْمِ، وَأَيما مُؤْمِنٍ کَسَا مُؤْمِناً عَلٰی عُرْيٍ کَسَاہُ اللہُ مِنْ خُضْرِ الْجَنَّۃِ''.۱؎
حضرت ابو سعيد ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں، نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجور، سلطان بحرو بر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا، جو مسلمان کسی مسلمان کو بھوک ميں کھانا کھِلائے گا تو اللہ تعالیٰ اُسے بروزِ قيامت جنت کے پھل کھلائے گا، اور جو کسی مسلمان کو پياس ميں پانی پلائے گا تو اللہ تعالیٰ اُسے بروزِ قيامت مہر کی گئی نتھری شراب پلائے گا او ر جو مسلمان کسی بے لباس مسلمان کو کپڑا پہنائے گا تو (قيامت کے روز) اللہ تعالیٰ اُسے جنت کی پوشاک پہنائے گا۔

    مریضوں کی تيمارداری اور بھوکوں، پياسوں کی داد رسی سے اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت حاصل ہوتی ہے، چنانچہ ارشاد ہے:
عَنْ أَبِيْ ھُرَيرۃَرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ''إِنَّ اللہَ عزوجل يقُوْلُ يوْمَ الْقِيامَۃِ: يا ابْنَ آدَمَ:
حضرت ابو ہريرہ ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہيں، حضورپاک، صاحب لولاک، سیاح افلاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا، اللہ عزوجل قيامت کے دن فرمائے گا اے انسان ميں
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (سنن الترمذي، کتاب صفۃ القيامۃ والرقائق والورع، باب (۱۸)،الحديث: ۲۴۴۹، ج۳،ص۳۵۸)
Flag Counter